صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 51
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۱ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الدخان مَضَى خَمسُ الدُّخَانُ وَالرُّومُ وَالْقَمَرُ وَالْبَطْشَةُ وَالزَامُ : قرآنِ کریم کی آیات فَارْتَقِبُ يَوْمَ تأتي السباءُ بِدُخَانٍ مُبِينِ (الدخان: ۱۱)، غُلِبَتِ الرُّومُ (الروم :(۳)، وَانْشَقَ الْقَمَرُ ( القمر : ٢)، يَوْمَ تَبْطِشُ البَطْشَةُ الكُبرى ( الدخان: ۱۷ ) اور فَسَوْفَ يَكُونُ لِزَامًا ( الفرقان: ۷۸) میں یہ پانچ پیشگوئیاں مذکور ہیں۔روایت نمبر ۴۸۲۰ میں انہی کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب رضی اللہ عنہ اس بارے میں فرماتے ہیں: صحابہ کر ام کے علم میں چند ایک واقعات جو تھے انہی کی طرف ان کا ذہن بار بار عود کرتا اور اس میں وہ معذور تھے۔لیکن ہمارا ایمان ہے کہ آنحضرت علی کیم کی بعثت گذشتہ زمانہ سے محدود نہیں ہے، بلکہ آئندہ زمانوں پر بھی ممتد ہے۔66 ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب التفسیر سورۃ الروم، جلد ۱ صفحہ ۱۶۷) ”باب کے تحت مندرجہ روایت میں عذاب الہی کی جن علامتوں کا ذکر ہے، ان میں سے بعض کا تعلق بلا شبہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے عہد مبارک سے ہے۔مثلاً شق القمر اور رومیوں کی مغلوبیت کے واقعات جن کا ذکر الگ الگ سورتوں میں ہوا ہے اور باقی کا تعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عہد بعید سے ہے، جن میں دجالی اقوام نے اسلام اور مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کے لیے حملہ آور ہونا تھا اور نزولِ مسیح موعود کی پیشگوئی کا ظہور مقدر ہے اور اس کی بعثت بھی در حقیقت آنحضرت صلی اللہ یکم کے عہد مبارک کا ہی ایک تسلسل ہے۔“ ( صحیح بخاری ترجمه و شرح، کتاب التفسیر، باب فَسَوْفَ يَكُونُ لِزاما، جلد ۱۱ صفحه ۱۲۵) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس جگہ دخان سے ایٹمی دھوئیں کی طرف بھی اشارہ مراد ہو سکتا ہے جس کے سائے کے نیچے کوئی چیز بھی محفوظ نہیں رہ سکتی بلکہ طرح طرح کی ہلاکتوں کا شکار ہو جاتی ہے۔چنانچہ جدید سائنسدانوں کی طرف سے یہ تنبیہہ ہے کہ ایٹمی دھوئیں کے سائے کے نیچے زندگی کی ہر قسم مٹ جائے گی یہاں تک کہ زمین کے اندر دفن جراثیم بھی ہلاک ہو جائیں گے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ایسا ہو گا، تب یہ اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوں گے کہ اے اللہ ! اس نہایت درد ناک عذاب کو ہم سے ٹال دے۔“ ( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفتہ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الدخان، صفحه ۸۸۶)