صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 50
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۰ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الدخان إِنَّكَ لَجَرِيءٌ فَاسْتَسْقَى فَسُقُوا فَنَزَلَتْ : بارش کی دعا کیجئے۔ کیونکہ وہ تو ہلاک ہو گئے ۔ آپ إِنَّكُمْ عَابِدُونَ (الدخان: ١٦) فَلَمَّا نے فرمایا: معر کے لئے تم بھی عجب دلیر ہو، تو أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ عَادُوا إِلَى حَالِهِمْ آپ نے بارش کے لئے دعا کی اور اُن پر بارش برسی۔ (اور اس کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی حِينَ أَصَابَتْهُمُ الرَّفَاهِيَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تھی۔ یعنی تم پھر ویسے کے ویسے ہو جاؤ گے۔ جب عَزَّ وَجَلَّ: يَوْمَ نَبْطِشُ الْبَطْشَةَ ان کو ذرا آسائش ملی تو پھر آسائش ملنے پر اپنی اسی الكبرى إِنَّا مُنْتَقِمُونَ (الدخان: (۱۷) حالت میں لوٹ گئے۔ مگر اللہ عزو جل نے یہ قَالَ يَعْنِي يَوْمَ بَدْرٍ۔ آیت بھی نازل کی تھی کہ جس دن ہم بڑی گرفت میں تم کو لے آئیں گے ( تم پر کھل جائے گا کہ) ہم انتقام لینے پر قادر ہیں۔ (حضرت عبد اللہ بن مسعود) کہتے تھے : (بطشة سے ) مراد جنگ بدر ہے۔ أطرافه: ۱۰۰۷ ، ۱۰۲۰ ، ٤٦٩٣ ، ٤٧٦٧، ٤٧٧٤ ، ٤٨٠٩ ، ٤٨٢٠ ، ٤٨٢٢ ، ٤٨٢٣، ٤٨٢٤، ٤٨٢٥۔ تشريح : فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُ خَانٍ مُّبِينٍ : : دخان کے اصل معنی آگ سے اُٹھنے والے دھوئیں کے ہیں۔ (مقاييس اللغة، دخن) (المفردات الإمام الراغب، دخن) محاورة یہ لفظ 인 قحط، خشک سالی، شر اور فساد کے معانی میں بھی استعمال ہوتا ہے ( التبیان فی تفسیر غريب القرآن، سورة الدخان) حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے نزدیک سورۂ دخان آیت نمبر 11 میں مذکور دُخان مبین کی پیشگوئی کا ظہور قریش و مصر پر شدید قحط کی سزا کی صورت میں ہو چکا ہے۔ (روایت نمبر ۴۸۲۱) لیکن حضرت علی، حضرت عبد اللہ بن عمر حضرت عبد اللہ بن عباس ، حضرت ابو سعید خدریؓ، حضرت حذیفہ بن یمان ، حضرت حذیفہ بن اسید غفاری اور حضرت ابو مالک اشعری رضی اللہ عنہم کی رائے کے مطابق یہ پیشگوئی قربِ قیامت کی علامات میں۔ علامات میں سے ایک ہے۔ اے صحیح بخاری کی روایت نمبر ۴۷۷۴ میں اس موقف کا کچھ ذکر اس طرح موجود ہے کہ قیامت کے روز ایک قسم کا دھواں ظاہر ہو گا جو منافقین کی شنوائی اور بینائی ضائع کر دے گا اور مؤمنین کو اس حد تک متاثر کرے گا کہ انہیں اس سے زکام ہو جائے گا۔ (روایت نمبر ۴۷۷۴) امام بخاری نے باب نمبر ا میں فَارْتَقِبُ کے معنی فانتظر یعنی انتظار کر“ بیان کر کے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ ممکن ہے کہ اس پیشگوئی کا اطلاق آئندہ زمانہ پر بھی ہو۔ ا۔ (صحیح مسلم ، کتاب الفتن، باب فى الآيات التي تكون قبل الساعة) (تفسير القرآن العظيم لابن كثير ، سورة الدخان، آیت ۱۰ : فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُ خَانٍ مُّبِينٍ ) (الدر المنثور لجلال الدين السيوطي ، سورة الدخان، آیت ۱۰ : فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءُ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ )