صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 49
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۹ ۲۵ کتاب التفسير / حم الدخان وَالرُّومُ وَالْقَمَرُ وَالْبَطْشَةُ وَاللَّزَامُ۔سے، مسروق نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ) سے روایت کی۔انہوں نے کہا: پانچ علامتیں گزر چکی ہیں، دُخان (دھواں)، روم، شق القمر ، ایک سخت گرفت اور چمٹ جانے والا عذاب۔أطرافه: ۱۰۰۷، ۱۰۲۰، ٤٦۹۳ ، ٤٧٦٧ ، ،٤٧٧٤ ، ٤۸۰۹، ٤٨٢١ ، ٤۸۲۲ ، ٤٨٢٣، ٤٨٢٤، ٤٨٢٥ - بَاب ٢ : يَغْشَى النَّاسَ هَذَا عَذَابُ الِيم ) ( الدخان: ١٢) جو لوگوں کو ڈھانپ لے گا، یہ بہت ہی دردناک عذاب ہو گا ٤٨٢١ : حَدَّثَنَا يَحْيَى حَدَّثَنَا أَبُو ۴۸۲۱: يحجي (بن موسیٰ بھی) نے ہم سے بیان کیا مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ که ابو معاویہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے اعمش مَّسْرُوقٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّمَا كَانَ سے اعمش نے مسلم سے، مسلم نے مسروق سے روایت کرتے ہوئے بتایا۔انہوں نے کہا: حضرت هَذَا لِأَنَّ قُرَيْشًا لَمَّا اسْتَعْصَوْا عَلَى عبد اللہ بن مسعودؓ) کہتے تھے: یہ اس لئے ہوا تھا النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَعَا عَلَيْهِمْ کہ قریش جب نبی مئی ایام کے مقابل اڑ گئے تو آپ بِسِنِينَ كَسِنِي يُوسُفَ فَأَصَابَهُمْ قَحْط نے ان پر سات سال قحط کی دعا کی جو حضرت یوسف وَجَهْدٌ حَتَّى أَكَلُوا الْعِظَامَ فَجَعَلَ الرَّجُلُ کے سالوں کی طرح ہوں۔چنانچہ ان کو قحط اور يَنْظُرُ إِلَى السَّمَاءِ فَيَرَى مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَهَا سخت مصیبت پہنچی۔یہاں تک کہ انہوں نے ہڈیاں كَهَيْئَةِ الدُّحَانِ مِنَ الْجَهْدِ فَأَنْزَلَ کھائیں اور آدمی فضا میں دیکھتا تو اپنے اور اس کے اللهُ عَزَّ وَجَلَّ فَارْتَقِبُ يَوْمَ تأتي السَّماءُ در میان مارے بھوک کی تکلیف کے دھواں سا بد خانٍ مُّبِيْنٍ يَغْشَى النَّاسَ هَذَا دیکھتا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی تھی: پس تو اُس دن کا انتظار کر جس دن آسمان پر ایک کھلا دو عَذَاب الیم (الدخان: ۱۱، ۱۲) قَالَ کھلا دھواں ظاہر ہو گا، جو سب لوگوں پر چھا جائے فَأْتِيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ گا، یہ دردناک عذاب ہو گا۔(حضرت عبد اللہ بن وَسَلَّمَ فَقِيلَ لَهُ يَا رَسُولَ اللهِ اسْتَسْقِ مسعود کہتے تھے : رسول اللہ صلی ال نیم کے پاس کوئی اللَّهَ لِمُضَرَ فَإِنَّهَا قَدْ هَلَكَتْ قَالَ لِمُضَرَ آیا اور کہنے لگا: یارسول اللہ ! مضر کے لیے اللہ سے