صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 48
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۸ ٤٤ سُورَةُ حم الدخان -۲۵ کتاب التفسير / حم الدخان وَقَالَ مُجَاهِدٌ رَهُوا ( الدخان: ٢٥) اور مجاہد نے کہا: دھوا کے معنی ہیں خشک راستہ۔طَرِيقًا يَابِسًا وَيُقَالُ رَهْوًا سَاكِنَا عَلَى اور کہا جاتا ہے: رھوا کے معنی ہیں ساکن۔علی عِلْمٍ عَلَى الْعَلَمِينَ (الدخان: ۳۳) عَلَى عِلْمٍ عَلَى الْعَلَمِينَ میں عَلَی الْعَلَمِینَ کے معنی ہیں مَنْ بَيْنَ ظَهْرَيْهِ۔فَاعْتِلُوهُ (الدخان: ٤٨) ان لوگوں پر جن کے درمیان وہ تھے۔فَاعْتِلُوهُ: ادْفَعُوهُ وَزَوَّجُنُهُم بِحُورٍ عِيْنٍ اس کو دھکیل دو۔وَزَوَّجُنُهُمْ بِحُورٍ عِيْنٍ یعنی ہم نے ان کا نکاح ایسی عورتوں سے کیا جو سفید ( الدخان: ٥٥) أَنْكَحْنَاهُمْ حُورًا عِينًا رنگ بڑی آنکھوں والی، جن کو دیکھ کر آنکھ حیران يَحَارُ فِيهَا الطَّرْفُ۔وَيُقَالُ أَنْ تَرْجُمُونِ رہ جائے۔اور کہا جاتا ہے: أَن تَرْجُمُونِ کہ مجھے (الدخان: ٢١) الْقَتْلُ۔وَرَهُوا (الدخان: ٢٥) قتل کر دو۔اور دھوا کے معنی ہیں ساکن۔اور سَاكِنَا۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسِ كَالْمُهْلِ حضرت ابن عباس نے کہا: كَالْمُهْلِ کے معنی ہیں۔الدخان: ٤٦) أَسْوَدُ كَمُهْلِ الزَّيْتِ کالا، جیسے تیل کی تلچھٹ۔وَقَالَ غَيْرُهُ تبع ( الدخان: ۳۸) اور (حضرت ابن عباس کے سوا ) اوروں نے کہا: مُلُوكُ الْيَمَنِ كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمْ يُسَمَّى تُبَّع یمن کے بادشاہ تھے۔ان میں سے ہر ایک تُبَّعًا لِأَنَّهُ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَالظَّلُ يُسَمَّى کو تُتبع کہا جاتا تھا کیونکہ وہ ایک دوسرے کے بعد بادشاہ ہو تا۔اور سایہ کو بھی تبع کہتے ہیں کیونکہ تُبَّعًا لِأَنَّهُ يَتْبَعُ الشَّمْسَ۔سورج کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔بَاب ۱ : فَارْتَقِبُ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَاءِ بِدُخَانٍ مُّبِينٍ (الدخان: ١١) (اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: ) پس تو اُس دن کا انتظار کر جس دن آسمان پر ایک کھلا کھلا دھواں ظاہر ہو گا فَارْتَقِبُ (الدخان: ١١) فَانْتَظِرْ۔( قتادہ نے کہا : ( فَارتَقِبُ کے معنی ہیں انتظار کر۔٤٨٢٠ : حَدَّثَنَا عَبْدَانُ عَنْ أَبِي حَمْزَةَ :۴۸۲۰: عبد ان نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ مُسْلِمٍ عَنْ مَّسْرُوقٍ ابو حمزه محمد بن میمون) سے ، ابوحمزہ نے اعمش سے، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ مَضَى خَمْسَ الدُّخَانُ اعمش نے مسلم (بن صبیح) سے ، مسلم نے مسروق