صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 46 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 46

صحیح البخاری جلد ۱۲ عَدْلًا۔{ M ۶۵ - کتاب التفسير / حم الزخرف کرتے تھے ہم نے ان کو ہلاک کر دیا اور پہلوں کی مثل گزر چکی، یعنی پہلوں کی سزا۔جزءا کے معنی ہیں برابر۔ریح : اقْتَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِكرَ صَفْحاً : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَفَتَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْعًا أَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مسرفين (الزخرف:۲) کیا ہم تمہارے سامنے ذکر (یعنی کتاب) کا بیان کرنا صرف اس لیے چھوڑ دیں کہ تم حد سے بڑھی ہوئی قوم ہو۔صفحا کے معنی ہیں اعراض کرنا، چھوڑ دینا۔(اقرب الموارد - صفح) امام بخاری نے اس آیت کریمہ کی وضاحت میں قتادہ کا ایک قول نقل کیا ہے جسے ابن ابی حاتم نے مکمل درج کیا ہے۔یعنی اللہ کی قسم ! اگر یہ قرآن اُس وقت اُٹھا لیا جاتا کہ جب اس اُمت کے پہلوں نے اس کو رڈ کیا تھا تو وہ سب ہلاک ہو جاتے۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ان پر اپنی رحمت اور شفقت بار بار کی اور بار بار انہیں اس کی طرف بلایا۔(فتح الباری جزء ۸ صفحه ۷۲۴) یہی وہ الہی سنت ہے جس کی تعلیم ہمیں آیت کریمہ فذاکر ان نَفَعَتِ الذكرى ( الاعلى:۱٠) میں ملتی ہے۔حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: افَتَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِكرَ صَفْحًا أن كُنتُم قَوْمًا مُسْرِفِينَ (الزخرف: ٢) س ہوتا ہے کہ کوئی نئے یانہ نے ، وعظ و نصیحت کبھی ترک نہیں کرنا چاہیئے۔گوش زدہ اثری دارد " " (حقائق الفرقان جلد ۴ صفحه ۳۶۸) معلوم جزءا: فرماتا ہے وَجَعَلُوا لَهُ مِنْ عِبَادِهِ جُزْءًا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَكَفُورٌ مُبِين (الزخرف :۱۲) (مگر حال یہ - ہے کہ) انہوں نے اس (خدا) کے لیے اس کے بندوں میں سے ایک حصہ (یعنی بیٹیاں) تجویز کر رکھا ہے۔انسان یقینا کھلا کھلا نا شکر گذار ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: یہ قرآنِ کریم میں نہیں لکھا کہ حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالٰی کی ذات یا اس کی صفات کے جزو ہیں اور اللہ تعالیٰ کے نور سے ایک ٹکڑا محمد صلی اللہ علیہ وسلم بن گیا ایسا خیال شرک ہے۔قرآنِ کریم میں اس کو رڈ کیا گیا ہے جہاں ( تفسير القرآن العظيم لابن أبي حاتم ، سورة الزخرف، قَوْلُهُ تَعَالَى: أَفَنَضْرِبُ عَنكُمُ الذِكُرَ صَفْعًا ) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع: «پس نصیحت کر ، نصیحت بہر حال فائدہ دیتی ہے۔“ یعنی کان پڑی بات اثر رکھتی ہے۔