صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 45
۴۵ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الزخرف صحیح البخاری جلد ۱۲ اہل جہنم کا آگ کے عذاب سے بچنے کے لیے جہنم کے نگرانوں سے بات کرنے کا ذکر سورہ مومن میں بھی ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَقَالَ الَّذِينَ فِي النَّارِ لِخَزَنَةِ جَهَنَّمَ ادْعُوا رَبَّكُمْ يُخَلَّفُ عَنَا يَوْمًا مِّنَ الْعَذَابِ قَالُوا أَوَ لَمْ تَكُ تَأْتِيَكُمْ رُسُلُكُمْ بِالْبَيِّنَتِ قَالُوا بَلَى قَالُوا فَادْعُوا وَمَا دُعَوُا الكَفِرِينَ إِلَّا فِي ضَلي (المؤمن: ۵۱،۵۰) اور دوزخی لوگ دوزخ کے داروغوں سے کہیں گے : تم اپنے رب کو پکارو کہ عذاب کا کچھ وقت تو ہم سے کم کرے۔وہ کہیں گے کہ کیا تمہارے پاس تمہارے رسول دلائل لے کر نہیں آئے تھے؟ وہ کہیں گے : ہاں، کیوں نہیں۔اس پر وہ (دوزخ کے دارو نے) کہیں گے : اب تم ( جتنا چاہو) پکارتے جاؤ، اور کافروں کی دعا رائیگاں ہی جاتی ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) اول العبدِينَ: اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قُلْ إِن كَانَ لِلرَّحينِ وَلَد فَأَنَا أَوَّلُ الْعَبدِينَ (الزخرف:۸۲) تو کہہ دے کہ اگر رحمن (خدا) کا کوئی بیٹا ہوتا تو میں اس کی سب سے پہلے عبادت کرتا۔عَبَدَ يَعْبُدُ کے معنی ہیں اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرنا، جبکہ عبد يَعْبَدُ کے معنی میں غصہ کرنا، ناراض ہونا اور انکار کرتا ہے (اقرب الموارد-عبد) اور ”عابد ان دونوں سے اسم فاعل ہے۔امام بخاری نے یہاں آول العبدِین کے معانی أَوَّلُ الْآنفين ( کراہت کرنے والوں میں سے سب سے پہلا ) اور أُولُ الْجاحِدِين ( انکار کرنے والوں میں سے سب سے پہلا) بیان کیے ہیں۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ان معانی کی طرف بھی اشارہ فرمایا ہے۔آپ خدا کا بیٹا قرار دینے والوں کو آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دیئے گئے اس جواب کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: " کیونکہ میں خدا تعالیٰ سے پیار کرنے والا ہوں اور اس کا فرمانبردار ہوں۔مگر نہ مگرند آسمانی دلیل اس کے حق میں ہے نہ عقلی، اس لیے میں مجبورا بیٹے کے خیال کی تردید کرتا ہوں۔“ (تفسیر صغیر، سورۃ الزخرف، حاشیه آیت ۸۲) باب ۲ : أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِكرَ صَفْحًا أَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُّسْرِفِينَ (الزخرف: ٦) کیا ہم تمہارے سامنے ذکر ( یعنی کتاب) کا بیان کرنا صرف اس لئے چھوڑ دیں کہ تم حد سے بڑھی ہوئی قوم ہو مُشْرِكِينَ۔وَاللَّهِ لَوْ أَنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مُسْرِفین سے مراد مشرکین ہیں۔اللہ کی قسم اگر رُفِعَ حَيْثُ رَدَّهُ أَوَائِلُ هَذِهِ الْأُمَّةِ یہ قرآن اُس وقت اُٹھا لیا جاتا کہ جب اس اُمت لَهَلَكُوا فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُمُ بَطْشًا کے پہلوں نے اس کو رڈ کیا تھا تو وہ سب ہلاک وَ مَضَى مَثَلُ الْأَوَّلِينَ (الزخرف: ۹ ہو جاتے۔فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشَا وَ مَضَى مَثَلُ عُقُوبَةُ الْأَوَّلِينَ۔جُزْءًا (الزخرف: ١٦) الْأَوَّلِينَ یعنی جو اُن میں سے نہایت سخت پکڑا