صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 44
صحیح البخاری جلد ۱۲ بوم بوم ۶۵ - کتاب التفسير / حم الزخرف عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَى الْمِنْبَرِ وَنَادَوا باپ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: میں نے نبی يمْلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ۔أطرافه: ٣٢٣٠، ٣٢٦٦۔صلی کم کو منبر پر یہ پڑھتے سنا: وَنَادَوا يملك اور (الزخرف: ۷۸) وہ پکاریں گے کہ اے مالک! (یعنی افسر دوزخ) تیرے رب کو چاہیئے کہ ہمیں موت دے دے۔وَقَالَ قَتَادَةُ مَثَلًا لِلْآخِرِينَ (الزخرف: ٥٧) اور قتادہ نے کہا: مَثَلًا لِلْآخِرِينَ کے معنی ہیں بعد عِظَةً لِمَنْ بَعْدَهُمْ وَقَالَ غَيْرُهُ میں آنے والوں کے لئے نصیحت۔اور قمادہ کے مُقْرِنِينَ (الزخرف: ١٤) صَابِطِيْنَ، يُقَالُ سوا اوروں نے کہا: مقرنین قابو میں رکھنے والے۔فُلَانٌ مُقْرِنٌ لِفُلَانِ ضَابِطَ لَهُ، وَالْأَكْوَابُ کہتے ہیں: فُلَانٌ مُقْرِنٌ لِفُلانٍ فلاں فلاں کو قابو میں رکھنے والا ہے اور اتواب کے معنی ہیں وہ الْأَبَارِيقُ الَّتِي لَا خَرَاطِيمَ لَهَا۔وَقَالَ کوزے جن کی ٹونٹیاں نہ ہوں۔اور قتادہ نے کہا: قَتَادَةُ في أم الكتب (الزخرف: ٥) جُمْلَةِ في أم الکتب کے معنی ہیں مجموعی کتاب، اصل الْكِتَابِ أَصْلِ الْكِتَابِ اَوَّلُ الْعَبدِينَ کتاب میں ہے۔اولُ الْعَبدِينَ سے مراد أَوَّلُ (الزخرف: ٨٢) أَيْ مَا كَانَ فَأَنَا أَوَّلُ الْآئِفِينَ ہے یعنی ( رحمن خدا کا کوئی بیٹا) نہیں ہے، الْآئِفِينَ وَهُمَا لُغَتَانِ رَجُلٌ عَابِدٌ وَعَبْدٌ اس لیے مار کرنے والوں میں سے میں سب سے وَقَرَأَ عَبْدُ اللهِ وَ قَالَ الرَّسُوْلُ يُرَبِّ پہلے ہوں۔دونوں طرح بولتے ہیں: رَجُلٌ عَابِدُ وعبد یعنی مار کرنے والا، کراہت کرنے والا۔وَيُقَالُ أَوَّلُ الْعَابِدِينَ الْجَاحِدِينَ مِنْ اور حضرت عبد اللہ بن مسعود) نے (وَقِيله يرب کے بجائے یوں) پڑھا ہے: وَقَالَ الرَّسُولُ لیرت۔اور کہتے ہیں: أَوَّلُ الْعَابِدِينَ مِیں عَابِدِین کے معنی الجاحِدِينَ یعنی انکار کرنے والے کئے عَبِدَ يَعْبَدُ۔جاتے ہیں۔عبد يَعْبَدُ سے ہے۔وَنَادَوا يَمْلِكُ لِيَقُضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَنَادَوا يُمْلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ قَالَ إنكم مکنون ) اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک (یعنی افسر دوزخ ) تیرے رب کو چاہیئے کہ ہمیں موت دے دے۔وہ کہے گا: تم دیر تک اس میں رہو گے۔(ترجمہ تفسیر صغیر ) مالک سے یہاں مراد وہ فرشتہ ہے جو جہنم پر نگران مقرر ہے۔