صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 639 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 639

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۳۹ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن کا یہ فرمانا اپنے اندر بہت سی حکمتیں رکھتا ہے۔مثلاً ایک یہ کہ انسانی مزاج میں کمزوری ہے کہ وہ ایک کام کرتے کرتے تھک جاتا ہے اور جب تک کچھ آرام نہ کرلے اور اس کی طاقتیں بحال نہ ہوں وہ اسی کام کو یا کسی دوسرے کام کو پوری مستعدی اور تمام تر صلاحیتوں اور استعدادوں کے ساتھ نہیں کر پاتا۔اس لیے اللہ تعالیٰ نے قانونِ قدرت میں یہ انتظام کر رکھا ہے کہ اضمحلال کے بعد نئی قوت پانے کے لیے وقفہ یا آرام کا وقت رکھا جاتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے : وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الَّيْلَ لِبَاسًا وَ النَّوْمَ سُبَانًا وَجَعَلَ النَّهَارِ نُشُوران (الفرقان: ۴۸) اور وہی (خدا) ہے جس نے رات کو تمہارے لئے لباس بنایا اور نیند کو آرام کا موجب، اور دن کو پھیلنے اور ترقی کا ذریعہ۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نیند انسانی راحت اور آرام کا موجب بنتی ہے اور جسم نئے سرے سے طاقتیں حاصل کر لیتا ہے۔اگر نیند نہ آئے تو انسان چند دنوں میں ہی پاگل ہو جائے۔یہ نیند ہی ہے جس کی وجہ سے انسان کی تمام طاقتیں برقرار رہتی ہیں اور وہ ہر صبح تازہ دم ہو کر اپنا کام شروع کر دیتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة الفرقان زیر آیت وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ اليل، جلد ششم صفحه ۵۱۰) پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد سے یہی مراد ہے کہ جب تھک جاؤ اور طبیعت میں اکتاہٹ اور بے زاری پیدا ہو جائے تو اس کام کو چھوڑ دو۔جیسا کہ ایک اور موقع پر فرمایا: يَا أَيُّهَا النَّاسُ خُذُوا مِنَ الْأَعْمَالِ مَا تُطِيقُونَ، فَإِنَّ اللهَ لَا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُوا، وَإِنَّ أَحَبَّ الأَعْمَالِ إِلَى اللهِ مَا دَامَ وَإن قل" اے لوگو! اعمال میں سے اتنا ہی کرو جتنے کی تمہیں طاقت ہے۔اللہ تعالیٰ (اجر دیتے) تو نہیں تھکے گا مگر تم تھک جاؤ گے اور اللہ کے نزدیک وہی اعمال پسندیدہ ہیں جو دائمی ہوں چاہے تھوڑے ہوں۔فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمُ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ : ایک صحابی کے نزدیک دوسرے صحابی نے کسی آیت کی تلاوت درست نہیں کی اور وہ اسے پکڑ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے آئے۔آپ کے نزدیک خصومت کی نوعیت ایسی نہ تھی کہ اس پر ایک دوسرے سے اختلاف کیا جاتا۔اس لئے آپ نے ان الفاظ میں نہایت ہی قیمتی نصیحت فرمائی: فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ اخْتَلَفُوا فَأَهْلَكَهُمْ - روایت نمبر ۵۰۶۲) آپس میں اختلاف نہ کرو کیونکہ تم سے پہلوں نے اختلاف کیا اور وہ برباد ہو گئے۔امام مسلم نے بھی انہی معنوں میں ایک روایت حضرت عبد اللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ کی نقل کی ہے : قَالَ هَجَرْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا قَالَ فَسُمِعَ أَصْوَاتُ رَجُلَيْنِ الْخَتَلَفَا فِي آيَةٍ فَخَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَفُ فِي وَجْهِهِ الْغَضَبُ فَقَالَ إِنَّمَا هَلَكَ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ بِاخْتِلافيهم في الكتاب - حضرت عبد الله بن عمر ڈ نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ ! (بخاری، کتاب اللباس، بَابُ الجُلُوسِ عَلَى الحَصِيرٍ وَنَحْوِدِ) (مسلم، کتاب العلم ، باب النهي عن اتباع متشابه القرآن)