صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 638
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۳۸ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن عِمْرَانَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ بیان کیا۔ انہوں نے شعبہ سے، شعبہ نے عَنْ عُمَرَ قَوْلَهُ وَجُنْدَبٌ أَصَحُ ابو عمران سے روایت کی۔ (انہوں نے کہا:) میں وَأَكْثَرُ۔ نے حضرت جندب سے ان کا یہی قول سنا۔ اور (عبد الله بن عون نے ابو عمران سے، ابو عمران نے عبد اللہ بن صامت سے، عبد اللہ نے حضرت أطرافه: ٥٠٦٠، ٧٣٦٤، ٧٣٦٥۔ عمر سے ان کا یہی قول بیان کیا۔ اور حضرت جندب کی روایت زیادہ صحیح اور زیادہ مشہور ہے۔ ٥٠٦٢ : حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ۵۰۶۲: سلیمان بن حرب نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عبدالملک بن مَيْسَرَةَ عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ عَنْ میسرہ سے، عبدالملک نے نزال بن سبرہ سے، عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ سَمِعَ رَجُلًا يَقْرَأُ آيَةً نزال نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) سے روایت کی۔ انہوں نے ایک شخص کو ایک آیت اس سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طرح پڑھتے ہوئے سنا کہ جس کے خلاف انہوں قَرَأَ خِلَافَهَا فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَانْطَلَقْتُ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پڑھتے ہوئے سنا تھا۔ بِهِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (انہوں نے کہا: ) میں نے ان کا ہاتھ پکڑا اور ان فَقَالَ كِلَاكُمَا مُحْسِنٌ فَاقْرَأَ ، أَكْبَرُ کوئی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا۔ آپؐ نے عِلْمِي قَالَ فَإِنَّ مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ فرمایا: تم دونوں اچھی طرح پڑھتے ہو۔ (شعبہ نے اخْتَلَفُوْا فَأَهْلَكَهُمْ۔ کہا: میرا غالب علم یہ ہے کہ آپؐ نے فرمایا: کیونکہ تم سے پہلے جو تھے انہوں نے آپس میں اختلاف کیا اور اس نے ان کو ہلاک کر دیا۔ أطرافه: ٢٤١٠، ٣٤٧٦۔ تشريح اقْرَءُوا الْقُرْآنَ مَا اخْتَلَفَتْ عَلَيْهِ قُلُوبُكُمْ : تم قرآن اس وقت تک پڑھو جب تک تمہارے دل لگے رہیں ، جب تم اُچاٹ ہونے لگو تو پھر اٹھ کھڑے ہو۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم