صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 43
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۲۳ ۶۵ - كتاب التفسير / حم الزخرف اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے حق میں پوری ہوئی اور امت مسلمہ نے آپؐ کے دعوی مثیل مسیح پر اس قدر شور مچایا کہ تیرہ صدیوں میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ مُجْرِمُونَ : فرماتا ہے : أَمْ أَبْرَ مُوا أَمْرًا فَإِنَّا مُجْرِمُونَ (الزخرف: ۸۰) کیا اُن لوگوں نے (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ کرنے کا کوئی فیصلہ کر لیا ہے (اگر ایسا ہے) تو ہم نے بھی ان کی تباہی کا فیصلہ کر لیا ہے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کتنا بڑ انشان ہے زخرف مکی سورۃ ہے۔ اس میں ایک تو یہ خبر دی ہے کہ کفار مکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف خطرناک منصوبہ کریں گے اور دوسری خبر یہ دی ہے کہ وہ ناکام رہیں گے اور ہم ان کو تباہ کر دیں گے اور یہ دونوں پیشگوئیاں پوری ہو گئیں۔ منکرین قرآن کے لیے اب انکار کی کیا گنجائش ہے۔“ ( تفسیر صغیر، سورۃ الزخرف، حاشیه آیت ۸۰) ملیکہ پوری آیت یہ ہے : وَلَوْ نَشَاءُ لَجَعَلْنَا مِنْكُمْ مَلَيْكَةً فِي الْأَرْضِ يَخْلُقُونَ (الزخرف: (۶) اور اگر ہم چاہتے تو تم میں سے بھی بعض کو ملائکہ بنا دیتے جو زمین میں تمہاری جگہ آباد ہوتے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: یعنی مسیح پر فرشتے اترے کیونکہ وہ روحانی طور پر فرشتہ بن گیا تھا اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے لوگ یا آپ کے بعد کے لوگ بھی مسیح جیسے بن جاتے تو ان پر بھی فرشتے اُترنے لگ جاتے اس میں کوئی تعجب کی بات نہیں موجودہ مسلمان محض ہٹ دھرمی سے اس امکان کے منکر ہیں۔“ ( تفسیر صغیر، سورۃ الزخرف، حاشیہ آیت ۶۱) بَاب ۱ : وَنَادَوا يَمْلِكُ لِيَقْضِ عَلَيْنَا رَبُّكَ (الزخرف: ۷۸) الْآيَة اللہ تعالیٰ کا فرمانا:) اور وہ پکاریں گے کہ اے مالک ! ( یعنی افسر دوزخ) تیرے رب کو چاہیے کہ ہمیں موت دے دے ٤٨١٩ : حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ۴۸۱۹ حجاج بن منہال نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ عَمْرٍو سفیان بن عیینہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عمرو عَنْ عَطَاءٍ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَى عَنْ (بن دینار ) سے ، عمرو نے عطاء بن ابی رباح) سے ، أَبِيهِ قَالَ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عطاء نے صفوان بن یعلی سے ، صفوان نے اپنے