صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 632 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 632

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۳۲ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن اللهِ ذَلِكَ هُدَى اللَّهِ يَهْدِي بِهِ مَنْ يَشَاءُ وَمَنْ يُضْلِلِ اللهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ (الزمر : ٢٣) زیر باب حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ نیز حضرت سعد بن ابی وقاص سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ نَزَلَ بِحُزْنٍ، فَإِذَا قَرَأَتُمُوهُ فَابْكُوا ، فَإِنْ لَمْ تَبْكُوا فَتَبَا كَوْا، وَتَغَنَّوْا بِهِ فَمَنْ لَمْ يَتَغَنَّ بِهِ فَلَيْسَ مِنَّا یعنی یہ قرآن حالت غم میں نازل ہوا پس جب تم اسے پڑھو تو خوب رؤو۔ اور اگر نہ رؤو تو رونے جیسا منہ بناؤ۔ اور اسے خوب سنوار کر تلاوت کروپس جس نے خوب سنوار کرنہ پڑھا تو وہ ہم میں سے نہیں۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: يَعْنِي ذَالِكَ الْكِتَابُ كِتَابًا مُتَشَابِهُ يُشْبِهُ بَعْضُهُ بَعْضًا لَيْسَ فِيهِ تَنَاقُضُ وَلَا اخْتِلَافُ مَثْنَى فِيهِ كُلَّ ذِكْرٍ لِيَكُونَ بَعْضُ الذِكْرِ تَفْسِيرًا لِبَعْضِهِ تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ يَعْنِي يَسْتَوْلَى جَلَالُهُ وَهَيْبَتُهُ عَلَى قُلُوبِ الْعُشَّاقِ لِتَقْشَعِرَ جُلُودُهُمْ مِنْ كَمَالِ الْخَشْيَةِ وَالْخَوْفِ يُجَاهِدُونَ فِي طَاعَةِ اللهِ لَيْلًا وَنَهَارًا بِتَحْرِيكِ تَأْثِيرَاتٍ جَلَالِيَّةٍ وَتَنْبِيْهَاتٍ قَهْرِيَّةٍ مِنَ الْقُرْآنِ ثُمَّ يُبَدِّلُ اللهُ حَالَعَهُمْ مِنَ التَّأَلُّمِ إِلَى التَّلَلَّذِ فَيَصِيرُ الطَّاعَةُ جُزْوَ طَبِيعَتِهِمْ وَ خَاصَةً فِطْرَتِهِمْ فَتَلِينُ جُلُودُهُمْ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ اللهِ يَعْنِي لِيَسِيلَ الذِّكْرُ فِي قُلُوبِهِمْ كَسَيْلَانِ الْمَاءِ وَيَصْدُرُ مِنْهُمْ كُلُّ أَمْرٍ فِي طَاعَةِ اللهِ بِكَمَالِ السَّهُولَةِ وَالصَّفَاءِ لَيْسَ فِيهِ ثِقُل وَلَا تَكَلُّفُ وَلَا ضَيْقٌ فِي صُدُورِهِمْ بَلْ يَتَلَنَّخُونَ بِإِمْتِقَالِ أَمْرِ الهِهِمْ وَيَجِدُونَ لَنَّةً وَحَلَاوَةً فِي طَاعَةِ مَوْلَاهُمْ " وَهَذَا هُوَ الْمُنْتَهَى الَّذِي يَنْتَهِي إِلَيْهِ أَمْرُ الْعَابِدِينَ وَالْمُطِيعِينَ فَيُبَدِّلُ اللهُ آلَامَهُمْ بِاللَّذَّاتِ “ الحق مباحثہ لدھیانہ ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۸،۳۷) ترجمه یعنی یہ کتاب متشابہ ہے جس کی آیتیں اور مضامین ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔ ان میں کوئی تناقض اور اختلاف نہیں۔ ہر ذکر اور وعظ اس میں دو ہر ادوہرا کر بیان کی گئی ہے ا ترجمه از تفسیر صغیر : اللہ وہ ہے جس نے بہتر سے بہتر بات یعنی وہ کتاب اتاری ہے، جو متشابہ بھی ہے۔ اور اس کے مضمون نہایت اعلیٰ ہیں۔ جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہیں ان کے جسموں کے رونگٹے اس کے پڑھنے سے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ پھر ان کے چمڑے اور دل نرم ہو کر اللہ کے ذکر کی طرف جھک جاتے ہیں۔ یہ (قرآن) اللہ کی ہدایت ہے (یعنی قرآن جس ہدایت کا مالک ہے وہ اللہ کی ہدایت ہے) جس کے ذریعہ سے وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور جس کو اللہ گمراہ قرار دے دے اس کو کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔ (سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة والسنة فيها ، باب في حسن الصوت بالقرآن)