صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 631
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۳۱ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن أَوْ أَمْسِكْ فَرَأَيْتُ عَيْنَيْهِ تَدْرِفَانِ۔ نازل کیا گیا۔ آپ نے فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے سے سنوں۔ کہتے تھے: میں نے سورۃ النساء پڑھی یہاں تک کہ جب اس آیت پر پہنچا: اور ان کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور تجھے ان لوگوں کے متعلق (بطور ) گواہ لائیں گے۔ آپ نے مجھے فرمایا : رُک جاؤ یا (فرمایا:) ٹھہر جاؤ۔ میں نے آپ کی آنکھوں کو دیکھا، آنسو بہا رہی تھیں۔ أطرافه: ٤٥٨٢ ، ٥٠٤٩، ٥٠٥٠، ٥٠٥٦۔ ٥٠٥٦ : حَدَّثَنَا قَيْسُ بْنُ حَفْصٍ ۵۰۵۶ قیس بن حفص (بصری) نے ہم سے حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ بیان کیا کہ عبد الواحد (بن زیاد) نے ہمیں بتایا۔ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَبِيْدَةَ السَّلْمَانِي (انہوں نے کہا:) اعمش نے ہم سے بیان کیا۔ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِيَ اللَّهُ انہوں نے ابراہیم (نخعی) سے، ابراہیم نے عبیدہ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ سلمانی سے ، عبیدہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ قُلْتُ أَقْرَأُ رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ انہوں نے کہا: مجھے عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ في صلى اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے ( قرآن ) پڑھ کر سناؤ۔ میں نے کہا: کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤں أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي۔ أطرافه: ٤٥٨٢، ٥٠٤٩، ٥٠٥٠، ٥٠٥٥۔ حالانکہ آپ پر تو نازل کیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا: میں پسند کرتا ہوں کہ دوسرے سے سنوں۔ تشريح الْبُكَاءُ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ: قرآن پڑھتے وقت رونا۔ قرآن کریم کی تلاوت کا ایک غیر معمولی اثر پڑھنے اور سننے والے پر ہوتا ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: اللهُ نَزَّلَ أَحْسَنَ وَقُلُوبُهُمْ إِلَى ذِكْرِ الْحَدِيثِ كِتَبًا مُتَشَابِهًا۔ ابِهَا مَّثَانِي تَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودا نَقْشَعِرُّ مِنْهُ جُلُودُ الَّذِينَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ۔ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ ثُمَّ تَلِينُ ۔ ثم تلين جلودهم وقلوبهم۔