صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 633 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 633

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۳۳ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن جس سے غرض یہ ہے کہ ایک مقام کا ذکر دوسرے مقام کے ذکر کی تفسیر ہو جائے۔اس کے پڑھنے سے ان لوگوں کی کھالوں پر جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔یعنی اس کا جلال اور اس کی ہیبت عاشقوں کے دلوں پر غالب ہو جاتی ہے۔اس لیے کہ ان کی کھالوں پر کمال خوف اور دہشت سے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔وہ قرآن کی قہری تنبیہات اور جلالی تاثیرات کی تحریک سے رات دن اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں یہ دل و جان کوشش کرتے ہیں۔پھر ان کی یہ حالت ہو جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس حالت کو جو پہلے دکھ درد کی حالت ہوتی ہے لذت اور سرور سے بدل ڈالتا ہے۔چنانچہ اس وقت طاعت الہی ان کی جزو بدن اور خاصہ فطرت ہو جاتی ہے۔پھر اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ان کے دلوں اور بدنوں پر رقت اور لینت طاری ہوتی ہے یعنی ذکر ان کے دلوں میں پانی کی طرح بہنا شروع ہو جاتا ہے اور ہر بات طاعت الہی کی ان لوگوں سے نہایت سہولت اور صفائی سے صادر ہوتی ہے نہ یہ کہ اس میں کوئی بوجھ ہو یا ان کے سینوں میں اس سے کوئی تنگی واقع ہو بلکہ وہ تو اپنے معبود کے امر کی فرمانبرداری میں لذت حاصل کرتے ہیں اور اپنے مولی کی طاعت میں انہیں حلاوت آتی ہے۔پس عابدوں اور مطیعوں کی غایت کار اور معراج یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کے دکھوں کو لذتوں سے بدل ڈالے“ (ترجمہ از ایڈیٹر ، الحق مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ حاشیه صفحه ۳۸) باب ٣٦ : إِثْمُ مَنْ رَاءَى بِقِرَاءَةِ الْقُرْآنِ أَوْ تَأَكَّلَ بِهِ أَوْ فَجَرَتْ بِهِ جس نے قرآن کو دکھاوے کے لئے پڑھا، یا اس سے روزی کمائی ، یا اس کے پڑھنے پر فخر کیا ٥٠٥٧: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ :۵۰۵۷ محمد بن کثیر نے ہم سے بیان کیا کہ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ عَنْ سفیان (ثورى) نے ہمیں خبر دی۔انہوں نے خَيْثَمَةَ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ قَالَ اعمش سے، اعمش نے خیثمہ (بن عبد الرحمن) عَلِيٌّ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ سَمِعْتُ النَّبِيَّ سے، خیثمہ نے سوید بن غفلہ سے روایت کی۔صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَأْتِي فِي انہوں نے کہا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے بیان 1- ابن التین کے مطابق ایک روایت میں یہاں جہ" کی بجائے قمری ہے۔(فتح الباری، جزء ۹ صفحہ ۱۲۵) ترجمہ اس کے مطابق ہے۔