صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 629
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۲۹ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَ الْقُرْآنَ فِي شَهْرٍ خود ابو سلمہ سے سنی۔انہوں نے حضرت عبد اللہ قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً حَتَّى قَالَ فَاقْرَأَهُ بن عمرو بن عاص) سے روایت کی۔انہوں نے فِي سَبْعٍ وَلَا تَزِدْ عَلَى ذَلِكَ۔کہا: رسول اللہ صلی الی یوم نے مجھے فرمایا: ہر مہینے میں سارا قرآن پڑھا کرو۔میں نے کہا: میں زیادہ طاقت پاتا ہوں۔آخر آپ نے فرمایا: اچھا سات راتوں میں پڑھ لیا کرو اور اس سے زیادہ نہیں۔أطرافه: ۱۱۳۱، ۱۱۰۲، ۱۱۰۳، ۱۹۷۱، ۱۹۷۱، ۱۹۷۶ ، ۱۹۷۷، ۱۹۷۸، ۱۹۷۹، -٥، ٦١٣٤ ٦٢٧٧۱۹۹ ،۵۰۰۳ ،٥٠٥۲ ،۳٤۲۰ ،۳۴۱۹ ،۳۴۱۸ ،۱۹۸۰ ح في كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ : کتنے دنوں میں قرآن پڑھا جائے۔امام بخاری کہتے ہیں۔بعض راویوں نے اس حدیث میں یوں نقل کیا ہے۔تین راتوں میں یا پانچ راتوں میں اور ان میں سے اکثر سات پر متفق ہیں۔روایت (نمبر ۵۰۵۲) میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اقْرَ الْقُرْآنَ فِي كُلِّ شَهْرٍ یعنی ہر مہینہ میں سارا قرآن پڑھا کرو۔حضرت عبد اللہ بن عمرو نے اس پر عرض کیا کہ وہ اس سے زیادہ کی طاقت رکھتے ہیں، وہ اس مدت کو کم کرواتے گئے یہاں تک کہ آپ نے تین دن سے کم مدت میں ختم کرنے سے منع فرمایا۔شخص ابو داؤد میں حضرت عبد اللہ بن عمرو سے ہی مرفوع روایت ہے کہ لا يَفْقَهُ مَنْ قَرَأَهُ فِي أَقَلَ مِن ثَلَاب - جس نے قرآن کو تین دن سے کم عرصہ میں پڑھا اس نے اس کو نہیں سمجھا۔سعید بن منصور نے حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے بیان کیا کہ قرآن کو سات دن میں ختم کرو اور تین دن سے کم مدت میں ختم نہ کرو۔عمرہ نے حضرت عائشہ سے بیان کیا: أَنَّ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ لَا يَعْتِمُ الْقُرْآنَ فِي أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثٍ یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم تین دن سے کم عرصہ میں قرآن ختم نہ فرماتے تھے۔اسی طرح بعض دیگر روایات میں پانچ دن کا بھی ذکر ملتا ہے۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں: علامہ نووی نے بیان کیا ہے کہ مدت کا اختیار مختلف اشخاص کے لحاظ سے مختلف ہے۔جو شخص اہل فہم اور دقیق فکر والا ہو اس کے لیے پسندیدہ یہی ہے کہ وہ اسی قدر پڑھے جس سے اس کے تدبر اور استخراج معانی میں خلل واقع نہ ہو۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۱۲۱) (سنن ابی داؤد، ابواب قراءة القرآن و تحزیبه و ترتیله، باب في كم يقرء القرآن)