صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 42 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 42

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۲ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الزخرف پیشگوئی کا پہلا حصہ اس وقت پورا ہو گیا جب سیدنا حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام نے خدا کے حکم پر اس الہام الہی کا اعلان فرمایا: مسیح ابن مریم رسول اللہ فوت ہو چکا ہے اور اُس کے رنگ میں ہو کر وعدہ کے موافق تُو آیا ہے۔وَكَانَ وَعْدُ اللهِ مَفْعُولًا " (ازالہ اوہام حصہ دوم، روحانی خزائن جلد ۳ صفحه ۴۰۲) قرآن کریم کی اس عظیم الشان پیشگوئی کے عین مطابق احادیث صحیحہ میں مسیح موعود کی آمد جس تواتر سے بیان کی گئی ہے، ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ وہ مسیح موعود جن کی آمد کا انتظار کرتے کرتے کروڑوں مسلمان دنیا سے گذر گئے، امت محمدیہ اس کی راہ میں آنکھیں بچھاتی۔محبت، اخلاص اور تقوی کی سیڑھی لگا کر اس موعود مسیح کو صحن دل میں اُتارتی اور تَلْزَمُ جَمَاعَةَ المُسْلِمِينَ وَإِمَامَهُمْ کے فرمان نبوی پر لبیک کہتے ہوئے اس کی اطاعت کرتی اور احیاء دین اور قیام شریعت کے کام میں اس کی دست و بازو اور سلطان نصیر بنتی مگر پہلی قوموں کی طرح امت محمدیہ بھی اس الہی نوشتہ کی مصداق بني: يحسرَةً عَلَى الْعِبَادِ مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِءُونَ (يس: ۳۱) وائے حسرت! امت محمدیہ بھی ان انداری پیشگوئیوں کی زد میں آگئی۔اور زیر باب متذکرہ پیشگوئی قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (الزخرف: ۵۸) ( یعنی تیری قوم اس پر شور مچانے لگتی ہے) کے مطابق مثیل مسیح کی آمد پر جو شور مچایا اس کا کچھ نمونہ قارئین کے ملاحظہ کے لئے پیش ہے۔بانی جماعت احمدیہ کے دعویٰ مثیل مسیح کے اعلان پر علمائے اُمت نے اس قدر شور مچایا کہ مکہ اور مدینہ سے آپ کے خلاف فتوے لائے گئے۔نیز علماء نے تحریر و تقریر کے ذریعہ زہر اگلنا شروع کیا اور ”شہاب ثاقب بر مسیح کا ذب“ اور ”مثنوی رومی کی حکایت شغال کا دیانی کے حسب حال“ مع حکایت بوم و شیر اور سہ حرفی چودھویں صدی دا جھوٹا مسیح“ وغیرہ نہایت دل آزار کتابیں ان کی طرف سے شائع کی گئیں اور شہر لدھیانہ میں تو مخالفت کا ایک طوفان برپا تھا۔مختلف محلہ جات میں آپ کے خلاف لیکچر کرائے گئے اور حضرت عیسی علیہ السلام کی جسمانی زندگی ثابت کرنے کے لیے پورا پورا زور لگایا گیا اور حضرت عیسی علیہ السلام کو وفات یافتہ قرار دینے اور مسیح موعود کے دعوئی پر مثیل مسیح یعنی بانی جماعت احمدیہ کی اور آپ کے متبعین کی اعلانیہ تکفیر کی گئی اور مولوی محمد حسین بٹالوی نے ایک استفتاء مرتب کیا جس میں مذکورہ بالا تینوں رسالوں کی عبارات قطع برید کر کے پیش کیں اور اگست ۱۸۹۱ میں ایک لمبا سفر اختیار کر کے مختلف علماء و فضلاء ہندوستان و پنجاب کا فتویٰ حاصل کیا۔اس فتوے میں آپ کے متعلق عربی اور اردو زبان میں جو الفاظ تکفیر و تفسیق کے لئے مل سکتے تھے، استعمال کئے گئے۔اس طرح پیشگوئی کا دوسرا پہلو یعنی تیری قوم شور مچائے گی بڑی شان سے پورا ہوا۔پس یہ پیشگوئی ہر پہلو سے حضرت (صحيح البخاري، كتابُ المَنَاقِبِ، بَابُ عَلَامَاتِ النُّبُوَّة في الإسلام ، روایت نمبر ۳۶۰۶) ترجمه حضرت خلیفة المسیح الرابع : وائے حسرت بندوں پر ! ان کے پاس کوئی رسول نہیں آتا مگر وہ اس سے ٹھٹھا کرنے لگتے ہیں۔66