صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 627 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 627

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۲۷ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن أُطِيْقُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ صُمْ ثَلَاثَةَ کتنے دنوں میں ختم کرتے ہو ؟ میں نے کہا: ہر ایک أَيَّامٍ فِي الْجُمُعَةِ قَالَ قُلْتُ أُطِيْقُ رات۔آپ نے فرمایا: ہر مہینے میں تین دن روزہ رکھو اور ہر مہینہ میں سارا قرآن پڑھا کرو۔أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ قَالَ أَفْطِرْ يَوْمَيْنِ (حضرت عبداللہ) کہتے تھے میں نے کہا: میں وَهُمْ يَوْمًا قَالَ قُلْتُ أُطِيْقُ أَكْثَرَ اس سے زیادہ طاقت رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا: مِنْ ذَلِكَ قَالَ صُمْ أَفْضَلَ الصَّوْمِ جمعہ میں تین دن روزہ رکھو۔(حضرت عبد الله) صَوْمَ دَاوُدَ صِيَامَ يَوْمِ وَإِفْطَارَ يَوْمِ کہتے تھے میں نے کہا: میں اس سے زیادہ طاقت وَاقْرَأْ فِي كُلِ سَبْعِ لَيَالٍ مَرَّةً فَلَيْتَنِي رکھتا ہوں۔آپ نے فرمایا: دو دن روزہ چھوڑو اور قَبِلْتُ رُحْصَةَ رَسُوْلِ اللهِ صَلَّى الله ایک دن روزہ رکھو۔حضرت عبد اللہ کہتے تھے: میں نے کہا: میں اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتا عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَاكَ أَنِّي كَبِرْتُ ہوں۔آپ نے فرمایا: وہ روزہ رکھو جو تمام روزوں وَضَعُفْتُ فَكَانَ يَقْرَأُ عَلَى بَعْضٍ سے افضل ہے یعنی داؤڈ کا روزہ۔ایک دن روزہ رکھنا أَهْلِهِ السُّبْعَ مِنَ الْقُرْآنِ بِالنَّهَارِ اور ایک دن روزہ چھوڑنا اور ہر سات راتوں میں وَالَّذِي يَقْرَؤُهُ يَعْرِضُهُ مِنَ النَّهَارِ ایک بار قرآن ختم کیا کرو۔کاش کہ میں رسول اللہ صل الم کی رخصت قبول کر لیتا کیونکہ میں بوڑھا لِيَكُوْنَ أَخَفَّ عَلَيْهِ بِاللَّيْلِ وَإِذَا أَرَادَ ہو گیا ہوں اور کمزور ہو گیا ہوں۔آخر وہ اپنے گھر أَنْ يَّتَقَوَّى أَفْطَرَ أَيَّامًا وَأَحْصَى والوں میں سے کسی کے سامنے دن کو قرآن کا وَصَامَ مِثْلَهُنَّ كَرَاهِيَةَ أَنْ يُتْرُكَ شَيْئًا ساتواں حصہ پڑھتے یعنی جو رات کو پڑھا کرتے وہ فَارَقَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دن کو سناتے تا کہ ان کے لئے رات کو پڑھنا آسان ہو ، اور جب وہ طاقت حاصل کرنا چاہتے عَلَيْهِ۔تو کئی دن تک افطار کرتے اور ان کو گن رکھتے اور پھر اتنے ہی دن روزہ رکھتے اس لئے کہ وہ اس کو برا سمجھتے تھے کہ وہ نبی صلی ایم کے بعد کوئی ایسی بات چھوڑیں کہ جس پر عمل کرنے کے لئے آپ سے (وعدہ) ٹھہر اتھا۔