صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 625 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 625

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۲۵ ۷۶ - کتاب فضائل القرآن بیٹے کی طرف سے آیا ہے اس سے سنتی ہے۔پھر وہ مدرس کے پاس چلی جاتی ہے اور کہتی ہے منشی جی ! ذرا اس خط کو تو سنا دینا پھر بھی تسلی نہیں ہوتی تو ڈا کھانے والے بابو کے پاس چلی جاتی ہے اور کہتی ہے۔ڈاکٹر بابو جی! ذرا اس خط کو تو سنا دینا ( گاؤں والے بیچارے ڈاکخانے کو کم علمی کی وجہ سے ڈاکٹر خانہ کہتے ہیں) وہ اس کے پاس جاتی ہے اور کہتی ہے ڈاکٹر بابو جی ذرا یہ خط توسنا دینا اور اس طرح جب تک اُسے سات آٹھ دفعہ سن نہیں لیتی اسے تسلی نہیں ہوتی اور کارڈ کو اپنے قریب ہی رکھتی ہے۔ایک دو ماہ کے بعد اگر کوئی باہر کا آدمی اس گاؤں میں آجائے اور اُس کو اس کا علم ہو جائے کہ وہ پڑھا ہوا ہے تو وہ اُس کے پاس چلی جاتی ہے اور کہتی ہے ذرا یہ خط تو سنا دیں۔غرض پڑھی لکھی عورتیں تو ایک دفعہ پڑھ کر چپ کر جاتی ہیں مگر ان پڑھ عورتوں کو تم دیکھتی ہو کہ جب تک سات آٹھ دفعہ خط پڑھوا نہ لیں آرام نہیں لیتیں۔“ ( قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید، انوار العلوم جلد ۱۸ صفحه ۱۳۶،۱۳۵) بَاب ٣٤: فِي كَمْ يُقْرَأُ الْقُرْآنُ کتنے دنوں میں قرآن پڑھا جائے وَقَوْلُ اللهِ تَعَالَى فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّر اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: جتنا بھی آسان ہو تم اس سے پڑھو۔منه۔(المزمل: ٢١) ٥٠٥١: حَدَّثَنَا عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ :۵۰۵۱ علی ( بن عبد اللہ مدینی) نے ہم سے بیان قَالَ لِي ابْنُ شُبْرُمَةَ نَظَرْتُ كَمْ يَكْفِي کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا کہ مجھ سے الرَّجُلَ مِنَ الْقُرْآنِ فَلَمْ أَجِدْ سُوْرَةٌ (عبد اللہ ) بن شہر مہ نے کہا: میں نے غور کیا کہ أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ آيَاتٍ فَقُلْتُ لَا آدمی کو کتنا قرآن پڑھنا کافی ہے۔تو میں نے تین آیتوں سے کم کسی سورۃ کو نہیں پایا۔تو میں نے يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يُقْرَأَ أَقَلَّ مِنْ ثَلَاثِ کہا: کسی کو نہیں چاہیے کہ وہ تین آیتوں سے کم آيَاتٍ قَالَ عَلِيٌّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ پڑھے۔علی نے کہا: سفیان (بن عیینہ ) نے ہم أَخْبَرَنَا مَنْصُوْرٌ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ سے بیان کیا۔ہمیں منصور ( بن معتمر) نے ابراہیم عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيْدَ أَخْبَرَهُ عَلْقَمَةُ (شخصی) سے خبر دی۔ابراہیم نے عبد الرحمن بن عَنْ أَبِي مَسْعُوْدٍ وَلَقِيْتُهُ وَهُوَ يَطُوفُ یزید سے روایت کی کہ انہیں علقمہ (بن قیس)