صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 624
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۲۴ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن النِّسَاءِ حَتَّى أَتَيْتُ عَلَى هَذِهِ الْآيَةِ کیا میں آپ کو (قرآن) پڑھ کر سناؤں حالانکہ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَ آپ پر نازل کیا گیا۔آپ نے فرمایا: ہاں سناؤ۔جتنا بك على هؤلاء شهیدان چنانچہ میں نے سورۃ النساء پڑھی۔جب میں اس (النساء: ٤٢) قَالَ حَسْبُكَ الْآنَ آیت پر آیا یعنی اور ان کا کیا حال ہو گا جب ہم ہر ایک جماعت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور فَالْتَفَتُ إِلَيْهِ فَإِذَا عَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ۔تجھے ان لوگوں کے متعلق (بطور) گواہ لائیں گے۔آپ نے فرمایا: بس کرو۔میں نے آپ کو مڑ کر جو أطرافه ٥٠٤٩٠٤٥٨٢، ٥٠٥٥، ٥٠٥٦۔دیکھا تو آپ کی آنکھیں آنسو بہارہی ہیں۔شريح : قَوْلُ الْمُقْرِي لِلْقَارِي حَسبك : پڑھانے والے کا پڑھنے والے سے یہ کہنا بس کرو۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قرآن شریف ہی دین کی جان ہے اس کو پڑھے پڑھائے بغیر کسی قسم کی ترقی کا خیال کر لینا ایک غلط خیال ہے۔حضرت خلیفہ اوّل عام طور پر عورتوں کے درس میں ایک چھوٹی سی مثال سنایا کرتے تھے۔وہ ایک نہایت ہی لطیف بات ہے اگر ہم چاہیں تو اس سے بہت بڑا سبق حاصل کر سکتے ہیں۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ دیکھو ! جب میں کہتا ہوں قرآن شریف پڑھو یا سنو تو تم یہ جواب دیا کرتی ہو کہ ہم پڑھی ہوئی نہیں حالانکہ اگر کسی عورت کا بچہ باہر گیا ہوا ہو اور اُس کے نام کا کارڈ باہر سے آئے تو جو پڑھی ہوئی ہوتی ہیں وہ تو اُس کو ایک دفعہ پڑھ کر سرہانے کے نیچے رکھ دیتی ہیں یا ٹرنک میں رکھ لیتی ہیں یا کسی طاق میں رکھ دیتی ہیں مگر جو ان پڑھ ہوتی ہیں اُن کو ایک دفعہ خط پڑھوا کر سننے سے تسلی نہیں ہوتی بلکہ وہ کسی دوسرے کے پاس جاتی ہیں اور پھر اُس سے سنتی ہیں۔مثلاً جب ایک ان پڑھ عورت کے پاس خط آتا ہے تو پہلے وہ گاؤں کے علا کے پاس جاتی ہے اور کہتی ہے ملا جی ! ذرا کارڈ پڑھنا میرے بیٹے کی طرف سے آیا ہے۔اس سے سنتی ہے اور سمجھتی ہے کہ شاید کوئی لفظ ملا جی کی نگاہ سے رہ گیا ہو یا شاید جلدی میں سارا مضمون نہ سنایا ہو ، پھر وہ دوڑی دوڑی چوہدری جی کی بیٹھک میں جاتی ہے اور کہتی ہے چوہدری جی ! ذرا یہ کارڈ تو سنا دینا میرے بیٹے کی طرف سے آیا ہے۔اس سے خط سنتی ہے مگر پھر بھی تسلی نہیں ہوتی اور وہ پٹواری جی کے پاس چلی جاتی ہے اور کہتی ہے پٹواری جی! ذرا یہ خط تو سنا دینا میرے