صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 623 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 623

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۲۳ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن حسوں کو بھی ملالیا جائے تو زیادہ ثواب ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بعض مسلمان بزرگ با وجود اِس کے کہ اُن کو قرآن شریف حفظ ہوتا تھا وہ قرآن شریف کو کھول کر اُسے آنکھوں سے دیکھتے تھے، زبان سے پڑھتے تھے اور ساتھ ساتھ اُنگلی چلاتے جاتے تھے۔کسی ایسے ہی بزرگ سے جب کسی نے پوچھا کہ یہ کیا حرکت ہے جب آپ کو قرآن شریف حفظ ہے تو پھر قرآن شریف دیکھ کر کیوں پڑھتے ہیں اور اگر قرآن شریف دیکھ کر پڑھتے ہی ہیں تو ساتھ ساتھ منہ سے کیوں دُہراتے جاتے ہیں اور پھر اس کے ساتھ اُنگلی ہلاتے جانے کی کیا ضرورت ہے؟ انہوں نے جو ابا کہا کہ میاں ! خدا تعالیٰ کے سامنے ہر چیز کا جائزہ ہو گا۔اگر میں نے حافظہ کے ذریعہ پڑھا تو صرف دماغ عبادت گزار ہو گا۔جب خدا تعالیٰ نے مجھے آنکھیں دی ہیں تو یہ عبادت گزار کیوں نہ ہوں اور زبان دی ہے تو وہ عبادت گزار کیوں نہ ہو۔اس لئے قرآن شریف دیکھ کر پڑھتا ہوں اور زبان سے دُہراتا جاتا ہوں اور ساتھ ساتھ اُنگلی بھی رکھتا چلا جاتا ہوں تاکہ اُنگلی بھی عبادت گزار ہو جائے۔تو جتنی حسیں زیادہ کام کرتی چلی جاتی ہیں ثواب بھی بڑھتا چلا جاتا ہے اسی طرح حافظے میں جتنی زیادہ حسیں لگائیں گے اتنی ہی زیادہ بات یاد رہے گی۔جس کام میں کان، آنکھ اور قوت لامسہ تینوں لگ جائیں وہ زیادہ دیر تک حافظہ میں قائم رہے گی۔“ ( قرآن کریم پڑھنے پڑھانے کے متعلق تاکید، انوار العلوم جلد ۱۸صفحہ ۱۴۱،۱۴۰) باب ۳۳: قَوْلُ الْمُقْرِئِ لِلْقَارِئِ حَسْبُكَ پڑھانے والے کا پڑھنے والے سے یہ کہنا : بس کرو ٥٠٥٠ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوْسُفَ :۵۰۵۰ محمد بن یوسف (بیکندی) نے ہم سے حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ بیان کیا کہ سفیان بن عیینہ ) نے ہمیں بتایا۔إِبْرَاهِيْمَ عَنْ عُبَيْدَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ انہوں نے اعمش سے، اعمش نے ابراہیم (شخصی) بْنِ مَسْعُوْدٍ قَالَ قَالَ لِي النَّبِيُّ سے، ابراہیم نے عبیدہ (سلمانی) سے ، عبیدہ نے صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عَلَيَّ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت کی۔انہوں قُلْتُ يَا رَسُوْلَ اللهِ آقْرَأُ عَلَيْكَ نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: مجھے وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ نَعَمْ فَقَرَأْتُ سُوْرَةَ (قرآن) پڑھ کر سناؤ۔میں نے کہا: یارسول اللہ !