صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 622
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۲۲ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن بَاب :۳۲: مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْتَمِعَ الْقُرْآنَ مِنْ غَيْرِهِ جو دوسرے سے قرآن سننا پسند کرے ٥٠٤٩: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ :۵۰۴۹ عمربن حفص بن غیاث نے ہم سے بیان غِيَاثٍ حَدَّثَنَا أَبِي عَنِ الْأَعْمَشِ قَالَ کیا کہ میرے والد نے ہمیں اعمش سے روایت حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَبِيْدَةَ عَنْ کرتے ہوئے بتایا۔انہوں نے کہا: ابراہیم (شخصی) سے، عَبْدِ اللهِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ لِي نے مجھے بتایا۔انہوں نے عبیدہ (سلمانی) النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَأْ عبیدہ نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) رضی اللہ عنہ عَلَيَّ الْقُرْآنَ قُلْتُ اقْرَأُ عَلَيْكَ سے روایت کی۔انہوں نے کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ قَالَ إِنِّي أُحِبُّ أَنْ نے مجھ سے فرمایا: مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ۔میں نے کہا: کیا میں آپ کو پڑھ کر سناؤں حالانکہ آپ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي۔أطرافه: ٤٥٨٢، ٥٠٥٠، 00'0' Lo۔07 پر تو نازل کیا گیا؟ آپ نے فرمایا: میں دوسرے سے اس کو سننا پسند کرتا ہوں۔تشريح۔مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَسْتَمِعَ الْقُرْآنَ مِنْ غَيْرِہ: جو دوسرے سے قرآن سنا پسند کرے۔م تمنی میں "الْقُرْآنَ" کی بجائے "القراءة" کے الفاظ ہیں۔حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کی روایت اس باب میں مختصر ہے مگر اگلے باب (۳۳) میں تفصیل سے بیان ہوئی ہے۔ابن بطال کہتے ہیں کہ آپ نے قرآن حضرت ابن مسعودؓ سے اس لیے سنا پسند فرمایا تا کہ قرآن سننے کی سنت قائم ہو جائے۔نیز یہ مقصد بھی ہو سکتا ہے کہ آپ اس پر تدبر اور غور کر سکیں کیونکہ سننے والا، پڑھنے والے کی نسبت سوچنے کے لحاظ سے زیادہ قوی ہوتا ہے۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۱۱۷) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”انسان کی دیکھنے کی جس ہر وقت کام کرتی ہے اور سُننے کی جس اس سے کم کام کرتی ہے۔اس لئے سننے کی جس کا قوتِ حافظہ پر زیادہ اثر پڑتا ہے بہ نسبت دیکھنے والی جس کے۔پھر بعض دفعہ دو دو، تین تین حسیں مل کر ایک کیفیت کو محسوس کرتی ہیں وہ حافظہ پر اور بھی گہرا اثر ڈالتی ہیں۔اسی لئے اگر ایک جس سے کوئی ثواب کا کام کیا جائے اور اس کے ساتھ دوسری ایک دو اور