صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 621 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 621

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۲۱ ۷۶ - کتاب فضائل القرآن بَاب ۳۱: حُسْنُ الصَّوْتِ بِالْقِرَاءَةِ لِلْقُرْآنِ خوش الحانی سے قرآن پڑھنا ٥٠٤٨: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَلَفٍ :۵۰۳۸ محمد بن خلف ابو بکر (بغدادی) نے ہم أَبُو بَكْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو يَحْيَى الْحِمَّانِيُّ سے بیان کیا کہ ابو یحییٰ حمانی نے ہمیں بتایا کہ برید حَدَّثَنَا بُرَيْدُ بْنُ عَبْدِ اللهِ بنِ بن عبد الله بن ابی بردہ نے ہمیں بتایا۔انہوں نے أَبِي بُرْدَةَ عَنْ جَدِهِ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ اپنے دادا ابو بردہ سے ، ابوبردہ نے حضرت ابو موسیٰ أَبِي مُوْسَى رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ ( شعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ نبی صلی اللہ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ابو موسیٰ تمہیں بھی يَا أَبَا مُوْسَى لَقَدْ أُوْتِيْتَ مِنْهَارًا مِنْ داؤد کے خاندان کی بانسریوں میں سے ایک بانسری دی گئی ہے۔مَزَامِيْرِ آلِ دَاوُدَ۔تشریح: ريح : حُسنُ الصَّوْتِ بِالْقِرَاءَةِ لِلْقُرآنِ خوش الحانی سے قرآن پڑھنا پسندیدہ ہے۔حضرت عمرہ کے متعلق ابن ابی داؤد روایت کرتے ہیں کہ آپ قوم میں سے خوش آواز جو ان کو اس کی خوش الحانی کی وجہ سے امام بناتے تھے۔(فتح الباری جزء 9 صفحہ ۱۱۶) حضرت براء بن عازب سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: زيّنُوا الْقُرْآنَ بِأَصْوَاتِكُم یعنی تم قرآن کو اپنی آوازوں سے مزین کرو۔خوش الحانی کا اہتمام کرنا چاہیے مگر اس بات کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ اس کے باعث مخارج کی صحت پر کوئی اثر نہ پڑے، نیز اظہار ، اخفاء وغیرہ کا بھی لحاظ رکھا جائے اور اس میں تکلف اور تصنع نہ ہو بلکہ حروف کی ادائیگی کے ساتھ اس کلام میں ڈوب کر اسے محبت اور ذوق سے پڑھا جائے کہ سننے والے کے دل میں اترتا جائے۔يَا أَبَا مُوسَى لَقَد أُوتِيْتَ مِنْهَارًا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ: ابو یعلی کی روایت میں اس حدیث (نمبر ۵۰۴۸) کی وضاحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت عائشہ رات کے وقت حضرت ابو موسیٰ کے گھر کے پاس سے گزرے جبکہ وہ تلاوت کر رہے تھے۔آپ دونوں ان کی قراءت سننے کے لیے کھڑے ہو گئے۔صبح جب حضرت ابو موسیٰ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو آپ نے فرمایا: اے ابو موسیٰ میں تمہارے گھر کے قریب سے گزرا پھر اس طرح سے پوری حدیث بیان کی۔یہاں مزامیر سے مراد خوش الحانی سے پڑھنا ہے۔مزمار بانسری کو کہتے ہیں۔یہاں مشابہت صوت کی وجہ سے اس کا ذکر کیا گیا ہے۔(فتح الباری جزء 9 صفحہ ۱۱۶، ۱۱۷) (سنن النسائی، کتاب الافتتاح، باب تَزْيِينُ الْقُرْآنِ بِالصَّوْتِ )