صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 620
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۲۰ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن سکون کی وجہ سے مد فرعی کہلائے گی۔ الضَّالِین میں مد اصلی کے بعد شد ہے۔ شد کی شرط دراصل سکون والی شرط میں آجاتی ہے کیونکہ شد کی صورت میں پہلا حرف ساکن ہی ہوتا ہے اور دوسرا حرف متحرک۔ اور دونوں کے ادغام سے شد بنتی ہے جو پچھلے حرف کو زیادہ لمبا کھینچ کر اگلے حرف کے ساتھ ملا کر ادا کی جاتی ہے۔ علاوہ ازیں حرف لین کے بعد ساکن آنے سے بھی مدفرعی پیدا ہوتی ہے۔ مثلاً بيت، قوم تفصیل کے لیے دیکھئے: التجوید (صفحہ ۴۹،۴۸) مصنفہ مولانا جمیل الرحمن صاحب رفیق۔ بَاب ٣٠ : التَّرْجِيعُ ترجمیع سے قرآن پڑھنا ٥٠٤٧ : حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ ۵۰۴۷ آدم بن ابی ایاس نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا أَبُو إِيَاسٍ قَالَ شعبہ نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے ابو ایاس سے، سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُغَفَّلٍ قَالَ ابو ایاس نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن مغفل رَأَيْتُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سے سنا۔ وہ کہتے تھے: میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم يَقْرَأُ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ أَوْ جَمَلِهِ وَهِيَ کو پڑھتے دیکھا جبکہ آپ اپنی اونٹی یا کہا اپنے اونٹ اور تَسِيرُ بِهِ وَهُوَ يَقْرَأُ سُوْرَةَ الْفَتْحِ او پر سوار تھے۔ اور وہ آپ کو لئے جارہی تھی اور مِنْ سُورَةِ الْفَتْحِ قِرَاءَةً لَنَةً يَقْرَأُ وَهُوَ آپ سورہ الی یا (کہا) سورۃ الم میں سے پڑھ رہے تھے۔ آپ نہایت نرمی سے پڑھ رہے تھے يُرَجِعُ۔ أطرافه: ٤٢٨١، ٤٨٣٥، ٥٠٣٤، ٧٥٤٠۔ اور آپ الفاظ دہراتے تھے۔ 1 تشریح الترجيع : لسان العرب میں ہے: تَرْدِيدُ الْقِرَاءَةِ وَمِنْهُ تَرْجِيعُ الْأَذَانِ، وَقِيلَ: هُوَ تَقَارُبُ ضُروبِ الْحَرَكَاتِ فِي الصَّوْتِ (لسان العرب - رجع) قراءت کو دہرانا۔ اور اسی سے تَرْجِیعُ الآذان ہے یعنی اذان کے الفاظ کو دہرانا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ترجمیع سے مراد حروف کو حرکات کے مطابق اور خوش الحانی سے ادا کرنا۔ بخاری کتاب التوحید (روایت نمبر ۷۵۴۰) میں معاویہ بن قمرة کی روایت ہے کہ حضرت معاویہ نے ترجیع سے مراد حرکات کو لمبا کر کے ادا کر نالیا ہے۔ شیخ ابو محمد بن ابی جمرہ نے کہا کہ ترجیع کے معنی خوش الحانی سے قرآن کریم کی تلاوت کرنا ہے۔ نہ یہ کہ معنی کی طرح راگ کی شکل میں پڑھنا۔ ( فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۱۱۵)