صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 619 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 619

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۱۹ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَ يَمُدُّ مَدًّا۔ علیہ وسلم کی قراءت کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے کہا: آپ قراءت مد سے پڑھا کرتے تھے۔ طرفه: ٥٠٤٦ ٥٠٤٦ : حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ ۵۰۴۶ عمرو بن عاصم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ قَتَادَةَ قَالَ سُئِلَ تمام نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے قتادہ سے روایت أَنَسٌ كَيْفَ كَانَتْ قِرَاءَةُ النَّبِيِّ کی۔ انہوں نے کہا: حضرت انس سے پوچھا گیا نبی صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ كَانَتْ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآت کیسی ہوتی ؟ تو انہوں مَدًا ثُمَّ قَرَأَ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ نے کہا: مد سے ہوتی۔ پھر انہوں نے بسم الله الرَّحِيمِ يَمُدُّ بِسْمِ اللهِ وَيَمُدُّ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیمِ پڑھی۔ بِسْمِ اللہ کو کھینچ کر بِالرَّحْمَنِ وَيَمُدُّ بِالرَّحِيمِ۔ طرفه ٥٠٤٥۔ پڑھتے اور الرَّحْمنِ کھینچ کر پڑھتے اور الرَّحِیمِ کھینچ کر پڑھتے۔ تشریح : من القراءة: قراءت کو بھی کرنا۔ منا کا مطلب ہے کھینچتا، لمبا کرنا۔ تجوید کی اصطلاح میں اس سے مراد ہے زبر، زیر اور پیش کی آوازوں کو لمبا کرنا جبکہ ان علامات کے بعد بالترتیب الف جس سے پہلے زبر ہو، ی ساکن جس سے پہلے زیر ہو، اور واؤ ساکن جس سے پہلے پیش ہو ، آئیں تو یہ حروف مدہ ہوں گے مثلاً ما، في قوا۔ مد کی دو اقسام ہیں: مد اصلی یا طبعی: حروف مدہ کے بعد اگر ہمزہ، سکون یا شد نہ ہو تو مد اصلی یا طبعی پائی جاتی ہے۔ مثلاً قال، قُوتِل، قیل میں مد اصلی یا طبعی پائی گئی ہے۔ مد طبعی یا اصلی سے مراد یہ ہے کہ ایسے موقع پر اگر زبر، زیر یا پیش کو لمبانہ کیا جائے تو صرف کر رہ جائے گا اور تھا کا وجود باقی نہ رہے گا۔ من طبعی یا اصلی کی مقدار دو حرکات ہے یعنی جتنی لمبائی عام زبر، زیر یا پیش کی ہے، حروف مدہ آنے کی صورت میں یہ لمبائی دگنی ہو جائے گی۔ اصطلاح میں دو حرکات کی مقدار کو ایک الف بھی کہا جاتا ہے۔ مثلاً قو میں پیش کی آواز کی مقدار ایک الف ہے۔ یعنی جتنی لمبائی بھی کی تھی اس سے دُگنی لمبی آواز قو کی ہو گی۔ مد فرعی: مد اصلی ( طبعی) کے بعد اگر ہمزہ یا ساکن حرف یا مشد و حرف آجائے تو مت فرعی کہلاتی ہے۔ مثلاً و ۔ جاء، یہاں مد اصلی کے بعد ہمزہ آنے کی وجہ سے مڈ فرعی کہلائے گی۔ اسی طرح عقاب میں مد اصلی کے بعد