صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 618
صحیح البخاری جلد ۱۲ وَعَدَهُ اللهُ۔۶۱۸ ۶۶- کتاب فضائل القرآن تیری زبان سے بیان کرائیں۔حضرت ابن عباس کہتے تھے: اس کے بعد جب جبرائیل آپ کے پاس آتے تو آپ سر جھکا لیتے اور جب وہ چلے جاتے تو پھر وحی کو پڑھتے جیسا کہ اللہ نے آپ سے وعدہ کیا۔أطرافه ه ۱۹۲۷، ۱۹۲۸، ٤۹۲۹، ٧٥٢٤۔تشریح ح۔التَّرْتِيلُ فِي الْقِرَاءَةِ: ترتیل کا مطلب ہے کہ قرآن کے حروف کو واضح طور پر ادا کرنا جیسا کہ فرمایا : وَ رَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا (المزمل: ۵) یعنی قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر خوش الحانی سے پڑھو۔قرآن کو شعر کے انداز میں پڑھنا نا پسندیدہ امر ہے جیسا کہ اسی باب میں آیا ہے کہ وَمَا يُكْرَهُ أَن يُبَنَّ كَهَدِ الشعر یعنی اس کو جلدی جلدی پڑھنا نا پسند کیا ہے جیسے شعروں کو جلدی جلدی پڑھا جاتا ہے۔سید نا حضرت خلیفہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: صل چیز یہی ہے کہ قرآن کریم سے ایسی محبت ہو کہ اس میں ڈوب کر اسے پڑھا جائے۔اللہ تعالیٰ نے ترتیل سے پڑھنے کا حکم دیا ہے۔ٹھہر ٹھہر کر اور جس حد تک بہترین تلفظ ادا ہو سکتا ہے ادا کر کے پڑھا جائے۔۔۔۔ہاں یہ کوشش ضرور ہونی چاہیے جیسا کہ میں نے کہا کہ اصل کے جتنا قریب ترین ہو کر آسانی سے الفاظ کی ادائیگی ہو سکے کی جائے اور پھر اس میں بہتری پیدا کرنے کی کوشش بھی کی جائے۔“ خطبات مسرور، جلد ۱۳ صفحه ۴۴۸،۴۴۷) بَاب ۲۹ : مَدُّ الْقِرَاءَةِ قراءت کو لمبی کرنا ٥٠٤٥: حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ :۵۰۴۵ مسلم بن ابراہیم نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيْرُ بْنُ حَازِمِ الْأَزْدِيُّ جرير بن حازم از دی نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے حَدَّثَنَا قَتَادَةُ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ کہا: قتادہ نے ہم سے بیان کیا۔انہوں نے کہا: بْنَ مَالِكٍ عَنْ قِرَاءَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ میں نے حضرت انس بن مالک سے نبی صلی اللہ