صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 617 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 617

صحیح البخاری جلد ۱۲ ٦١٧ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن ٥٠٤٤: حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۵۰۴۴: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي جریر (بن عبد الحمید ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے عَائِشَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنِ موسیٰ بن ابی عائشہ سے، موسیٰ نے سعید بن جبیر سے، سعید نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي سے اللہ تعالیٰ کے اس قول لا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ قَوْلِهِ لَا تُحَرِّكْ بِهِ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهِ لِتَعْجَلَ بہ کے متعلق بیان کیا۔ انہوں نے کہا: (القيامة : ١٧) قَالَ كَانَ رَسُوْلُ اللَّهِ جب جبریل وحی لے کر آپ پر نازل ہوتے تو صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَزَلَ عَلَيْهِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زبان اور اپنے ہونٹوں کو بھی ہلایا کرتے تھے اور (وحی سے) جِبْرِيلُ بِالْوَحْيِ وَكَانَ مِمَّا يُحَرِّكُ بِهِ لِسَانَهُ وَشَفَتَيْهِ فَيَشْتَدُّ عَلَيْهِ آپ کو سخت تکلیف ہوتی ہوئی اور وہ آپ کی تکلیف معلوم ہو جاتی۔ اس لئے اللہ (تعالی) نے یہ آیت وَكَانَ يُعْرَفُ مِنْهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ الْآيَةَ نازل کی جو لا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيِّمَةِ میں ہے یعنی الَّتِي فِي لَا أُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيمَةِ (اے نبی) تو اپنی زبان کو حرکت نہ دے تاکہ یہ (القيامة : ٢) لا تُحَرِّكُ بِه لِسَانَكَ قرآن جلدی نازل ہو جائے۔ اس کا جمع کرنا بھی لِتَعْجَلَ بِهِ إِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهُ وَ ہمارے ذمہ ہے اور اس کا ( دنیا کے سامنے) سنانا قرانه (القيامة : ۱۷، ۱۸) فَإِنَّ عَلَيْنَا بھی ہمارے ذمہ ہے) یعنی یہ ہمارے ذمہ ہے أَنْ نَجْمَعَهُ فِي صَدْرِكَ وَقُرْآنَهُ، فَإِذَا کہ ہم اس کو تمہارے سینہ میں محفوظ کر دیں اور قَرَانَهُ فَاتَّبِعُ قُرْآنَهُ (القيامة : ١٩) اس کو پڑھا دیں۔ پس جب ہم اسے پڑھ لیا کریں تو ہمارے پڑھنے کے بعد تو بھی پڑھ لیا کر۔ یعنی فَإِذَا أَنْزَلْنَاهُ فَاسْتَمِعْ، ثُمَّ إِنَّ عَلَيْنَا جس وقت ہم اس کو نازل کریں تو غور سے سنتا بيانه (القيامة : ٢٠) قَالَ إِنَّ عَلَيْنَا رہ۔ اور یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس کو (تیری أَنْ نُبَيِّنَهُ بِلِسَانِكَ قَالَ وَكَانَ إِذَا أَتَاهُ زبان سے لوگوں کو کھول کر سنا دیں۔ حضرت جِبْرِيلُ أَطْرَقَ فَإِذَا ذَهَبَ قَرَأَهُ كَمَا ابن عباس نے کہا: ہمارے ذمہ ہے کہ ہم اس کو