صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 41 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 41

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۱ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الزخرف حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ” جب تم سمندری یاز مینی سفر کرتے ہو تو یاد کر لیا کرو کہ اللہ ہی ہے جس نے سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو یا زمین میں چلنے والے جانوروں کو ، جن پر تم سواری کرتے ہو، تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے۔اور تم میں بہت سے ایسے ہوں گے جو حادثات کا شکار ہو کر اُن منازل کو نہیں پاسکیں گے جن کی خاطر وہ روانہ ہوئے تھے۔لیکن یاد رکھنا کہ آخری منزل وہی ہے جس میں تم اللہ کے حضور حاضر ہونے والے ہو۔“ (ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفتہ المسیح الرابع، تعارف سورة الزخرف صفحه ۸۷۳) يَعشُ: يَعْمَى یعنی وہ اندھا ہو جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيْضُ لَهُ شَيْطئًا فَهُوَ لَهُ قَرِين (الزخرف:۳۷) اور جو کوئی رحمن (خدا) کے ذکر سے منہ موڑ لیتا ہے ہم اُس پر ایک شیطانی خصلت وجود کو مستولی کر دیتے ہیں اور وہ اس کا ہر وقت کا ساتھی ہو جاتا ہے۔(ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: " وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيْضُ لَهُ شَيْطئًا فَهُوَ لَهُ قَرِينَ۔یعنی جو شخص قرآن کریم سے اعراض کرے اور جو اس کے صریح مخالف ہے اس کی طرف مائل ہو ہم اس پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں کہ ہر وقت اس کے دل میں وساوس ڈالتا ہے اور حق سے اس کو پھیر تا ہے اور نابینائی کو اس کی نظر میں آراستہ کرتا ہے اور ایک دم اس سے جدا نہیں ہوتا۔“ (مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحه ۳۷) يصدون کے معنی ہیں وہ شور و غل مچاتے ہیں، ہنگامہ کرتے ہیں۔فرماتا ہے : وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (الزخرف: ۵۸) اور جب ابنِ مریم کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے تو اچانک تیری قوم اس پر شور مچانے لگتی ہے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس سورۃ میں یہ پیشگوئی فرما دی گئی ہے کہ آئندہ بھی متقل کے طور پر مسیح نازل ہو گا جو اس علامت کے طور پر ہو گا کہ عظیم انقلاب کی گھڑی آگئی ہے۔( ترجمہ قرآن کریم حضرت خلیفتہ المسیح الرابع، تعارف سورۃ الزخرف، صفحه ۸۷۴) اس آیت کریمہ میں ایک زبر دست پیشگوئی مذکور ہے۔اس پیشگوئی کے دو پہلو ہیں: ا مثیل مسیح کی آمد اس مثیل مسیح کی آمد پر امت محمدیہ کا شور مچانا۔