صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 41
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۴۱ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الزخرف حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: جب تم سمندری یا زمینی سفر کرتے ہو تو یاد کر لیا کرو کہ اللہ ہی ہے جس نے سمندر میں چلنے والی کشتیوں کو یا زمین میں چلنے والے جانوروں کو، جن پر تم سواری کرتے ہو، تمہارے لیے مسخر کر دیا ہے۔ اور تم میں بہت سے ایسے ہوں گے جو حادثات کا شکار ہو کر ان منازل کو نہیں پاسکیں گے جن کی خاطر وہ روانہ ہوئے تھے۔ لیکن یاد رکھنا کہ آخری منزل وہی ہے جس میں تم اللہ کے حضور حاضر ہونے والے ہو۔“ ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ الزخرف صفحه ۸۷۳) يَعْشُ: يَعْمَی یعنی وہ اندھا ہو جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضُ لَهُ شَيْطَنَا فَهُوَ لَهُ قَدِين (الزخرف: ۳۷) اور جو کوئی رحمن (خدا) کے ذکر سے منہ موڑ لیتا ہے ہم اُس پر ایک شیطانی خصلت وجود کو مستولی کر دیتے ہیں اور وہ اس کا ہر وقت کا ساتھی ہو جاتا ہے۔ (ترجمہ تفسیر صغیر) حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام فرماتے ہیں: وَمَنْ يَعْشُ عَنْ ذِكْرِ الرَّحْمَنِ نُقَيِّضُ لَهُ شَيْطَنًا فَهُوَ لَهُ قَرِينَ ۔ یعنی جو شخص قرآن کریم سے اعراض کرے اور جو اس کے صریح مخالف ہے اس کی طرف مائل ہو ہم اس پر شیطان مسلط کر دیتے ہیں کہ ہر وقت اس کے دل میں وساوس ڈالتا ہے اور حق سے اس کو پھیرتا ہے اور نابینائی کو اس کی نظر میں آراستہ کرتا ہے اور ایک دم اس سے جدا نہیں ہوتا۔“ (مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد ۴ صفحہ ۳۷) يَصِدُّونَ کے معنی ہیں وہ شور و غل مچاتے ہیں، ہنگامہ کرتے ہیں۔ فرماتا ہے : وَ لَمَّا ضُرِبَ ابْنُ مَرْيَمَ مَثَلًا إِذَا قَوْمُكَ مِنْهُ يَصِدُّونَ (الزخرف : (۵۸) اور جب ابن مریم کو بطور مثال پیش کیا جاتا ہے تو اچانک تیری قوم اس پر شور مچانے لگتی ہے۔ نے حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: اس سورۃ میں یہ پیشگوئی فرمادی گئی ہے کہ آئندہ بھی مثل کے طور پر مسیح نازل ہو گا جو اس علامت کے طور پر ہو گا کہ عظیم انقلاب کی گھڑی آگئی ہے۔“ " ترجمه قرآن کریم حضرت خلیفة المسیح الرابع، تعارف سورۃ الزخرف، صفحہ ۸۷۴) اس آیت کریمہ میں ایک زبر دست پیشگوئی مذکور ہے۔ اس پیشگوئی کے دو پہلو ہیں: ا مثیل مسیح کی آمد اس مثیل مسیح کی آمد پر امت محمدیہ کا شور مچانا۔