صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 616
صحیح البخاری جلد ۱۲ ५५ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن باب ۲۸ : التَّرْتِيْلُ فِي الْقِرَاءَةِ قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر خوش الحانی سے پڑھنا وَقَوْلُهُ تَعَالَى وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا ) اور اللہ تعالیٰ کا یہ فرمانا: قرآن کو ٹھہر ٹھہر کر (المزمل: ٥) وَقَوْلُهُ تَعَالَى وَ قُرْآنًا خوش الحانی سے پڑھو۔ اور اللہ تعالیٰ کا فرمانا: اور فَرَقْتُهُ لِتَقْرَاهُ عَلَى النَّاسِ عَلَى مُلتِ قرآن کو ہم نے ٹکڑے ٹکڑے کر کے نازل کیا (بني إسرائيل: (۱۰۷) وَمَا يُكْرَهُ أَنْ ہے تا کہ تو اسے لوگوں کے سامنے بھی ٹھہر ٹھہر يُّهَدَّ كَهَذِ الشَّعْرِ فِيهَا يُفْرَقُ کر پڑھے۔ اور اس کو جلدی جلدی پڑھنا نا پسند الدخان: ٥) يُفَصَّلُ قَالَ ابْنُ کیا گیا ہے جیسے شعروں کو جلدی جلدی پڑھا جاتا عَبَّاس فَرَقْتُهُ (بني إسرائيل: ۱۰۷) ہے۔ يُفْرَقُ کے معنی الگ الگ بیان کیا گیا۔ حضرت ابن عباس نے کہا: فَرقہ کے معنی ہیں: فَصَّلْنَاهُ۔ ہم نے اس کو کئی حصوں میں بیان کیا۔ ٥٠٤٣ : حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا ۵۰۴۳: ابو نعمان نے ہم سے بیان کیا کہ مہدی مَهْدِيُّ بْنُ مَيْمُونٍ حَدَّثَنَا وَاصِل عَنْ بن میمون نے ہمیں بتایا۔ (انہوں نے کہا:) واصل أَبِي وَائِلٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ غَدَوْنَا (احدب) نے ہم سے بیان کیا۔ انہوں نے ابو وائل عَلَى عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ رَجُلٌ قَرَأْتُ سے ، ابو وائل نے حضرت عبد اللہ بن مسعود) الْمُفَصَّلَ الْبَارِحَةَ فَقَالَ هَذَا كَهَدِّ سے روایت کی۔ ابو وائل نے کہا: ہم صبح سویرے حضرت عبد اللہ کے پاس گئے۔ ایک شخص نے کہا: الشِّعْرِ إِنَّا قَدْ سَمِعْنَا الْقِرَاءَةَ وَإِنِّي میں نے (ساری) مفصل گزشتہ رات پڑھی تو حضرت لَأَحْفَظُ الْقُرَنَاءَ الَّتِي كَانَ يَقْرَأُ بِهِنَّ عبد اللہ نے کہا: ایسی جلدی جلدی پڑھی ہو گی جیسے النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَمَانِيَ شعروں کو پڑھا جاتا ہے۔ ہم بھی قراءت سن چکے عَشْرَةَ سُوْرَةً مِنَ الْمُفَصَّلِ وَسُوْرَتَيْنِ ہیں اور مجھے وہ ہم مشابہہ سورتیں خوب یاد ہیں جن مِنْ آلِ حم ۔ أطرافه: ٧٧٥، ٤٩٩٦ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا کرتے تھے یعنی مفصل کی اٹھارہ سورتیں اور حمد کی دو سورتیں۔