صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 615 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 615

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۱۵ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن سورۃ البقرۃ، سورۃ آل عمر آن وغیرہ نہیں کہنا چاہیے بلکہ کہنا چاہیے کہ السُّورَةُ الَّتِي يُذْكَرُ فِيهَا كَذَا ۔ یعنی وہ سورة جس میں (بقرہ، آل عمران وغیرہ) کا ذکر ہے۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: سورۃ کا لفظ جو قرآن کریم کے خاص ٹکڑوں کی نسبت استعمال ہوا ہیں۔ یہ الہامی نام ہے، اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان کردہ ہے۔ قرآن کریم میں آتا ہے: وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِّنْ مِثْلِهِ (البقرة: (۲۴) پس سورۃ کا لفظ خود قرآن کریم نے استعمال فرمایا ہے اور الہامی نام ہے رسول کریم صلعم بھی یہ لفظ استعمال فرماتے تھے۔ صحیح مسلم میں انس سے روایت ہے قَالَ رَسُولُ الله صَلَّى الله عليه وسلَّم أُنْزِلَتْ عَلَى أَيْفاً سُوَرةٌ فَقَرَأَ بِسْمِ الله الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الكَور، یعنی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابھی مجھ پر ایک سورۃ اُتری ہے اور وہ یہ ہے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الكوثر اس روایت سے معلوم ہوا کہ رسول کریم صلعم بھی قرآن کریم کے ان حصوں کو جن کو آج مسلمان سورتیں کہتے ہیں سورۃ ہی کے نام سے یاد فرمایا کرتے تھے اور یہ بعد کا رکھا ہوا نام نہیں۔ “ ( تفسیر کبیر، سورۃ الفاتحہ، جلد اول صفحہ ۲) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ سورۃ الفاتحہ کے ناموں کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ”میں نے تفصیلاً سورۃ فاتحہ کے نام اس لئے گنوائے ہیں تا یہ بتاؤں کہ سورتوں کے نام بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے رکھے ہوئے ہیں اور جیسا کہ سورۃ فاتحہ کے بعض ناموں سے ثابت ہے آپ نے بھی وہ نام الہاما اللہ تعالی سے اطلاع پا کر رکھے ہیں۔“ کوئی او ( تفسیر کبیر ، سورۃ الفاتحہ، جلد اول صفحه (۳) صا الله سورۃ یونس کی آیت ۱۶ وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا کی تفسیر میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:۔ ”مطلب یہ ہے کہ میں قرآن مجید کے متعلق تمام باتیں وحی الہی سے کرتا ہوں اور اس میں خود خل نہیں دیتا۔ لہذا میں کوئی تبدیلی یا تغیر نہیں کر سکتا۔ اس آیت سے ان لوگوں کا رڈ بھی ہو جاتا ہے جو کہتے ہیں کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کا ہر سورۃ سے پہلے لکھنا آنحضرت صلی ایم کے حکم سے ہے نہ کہ وحی سے ، یا ترتیب قرآن اور سورتوں کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے خود رکھے ہیں۔ “ ( تفسیر کبیر سورة يونس، زیر آیت وَإِذَا تُتْلَى عَلَيْهِمْ آيَاتُنَا جلد نمبر ۳ صفحه ۴۵) ا (مسلم، كتاب الصلوة، باب حجته من قال البسملة أية مِنْ أَوَّلِ كُلِّ سُورَةٍ سِوَى بَرَاءة) علیکم