صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 612 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 612

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۱۲ ۷۶ - کتاب فضائل القرآن لاکھوں مسلمان نابینوں کو بغیر پوچھے اور بغیر دریافت کئے ایک ہندوستانی ملتے ہی حافظ صاحب کے نام سے یاد کرے گا یعنی وہ جس نے سارا قرآن یاد کیا ہوا ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نابینوں میں سے اتنے حافظ قرآن ہوتے ہیں کہ عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ ہو ہی نہیں ہو سکتا کہ کوئی نابینا ہو اور قرآن کا حافظ نہ ہو۔ہر رمضان میں ساری دنیا کی ہر بڑی مسجد میں سارا قرآن کریم حافظ لوگ حفظ سے بلند آواز کے ساتھ ختم کرتے ہیں۔ایک حافظ امامت کراتا ہے اور دوسر ا حافظ اُس کے پیچھے کھڑا ہوتا ہے تا اگر کسی جگہ پر وہ بھول جائے تو اس کو یاد کرائے۔اس طرح ساری ہی دنیا میں لاکھوں جگہ پر قرآن کریم صرف حافظ سے دُہرایا جاتا ہے۔یہی وہ باتیں ہیں جن کی وجہ سے یورپ کے دشمنوں کو بھی تسلیم کرنا پڑا ہے کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر آج تک بالکل محفوظ چلا آتا ہے اور یہ کہ یقینی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس شکل میں قرآن کریم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو دیا تھا اُسی شکل میں آج موجود ہے۔“ (دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد ۲۰ صفحه ۴۳۴ تا ۴۳۶) بَاب ۲۷: مَنْ لَمْ يَرَ بَأْسًا أَنْ يَقُوْلَ سُوْرَةُ الْبَقَرَةِ وَسُوْرَةُ كَذَا وَكَذَا جو سورۃ البقرۃ اور فلاں فلاں سورۃ کہنے میں حرج نہ سمجھے ٥٠٤٠: حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْص :۵۰۴۰ عمر بن حفص نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا الْأَعْمَسُ قَالَ میرے باپ نے ہمیں بتایا۔اعمش نے ہمیں حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ عَنْ عَلْقَمَةَ بتاتے ہوئے کہا کہ ابراہیم (شخصی) نے مجھ سے وَعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ بیان کیا۔ابراہیم نے علقمہ (بن قیس) اور أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ قَالَ عبد الرحمن بن یزید سے، انہوں نے حضرت النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْآيَتَانِ ابو مسعود انصاری سے روایت کی۔انہوں نے کہا: مِنْ آخِرِ سُوْرَةِ الْبَقَرَةِ مَنْ قَرَأَ بِهِمَا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سورۃ البقرہ کے آخر میں دو آیتیں ہیں جس شخص نے ان کو رات کے وقت پڑھا وہ اس کو ہر شر سے بچانے) کے لیے کافی ہیں۔فِي لَيْلَةٍ كَفَتَاهُ۔أطرافه: ٤۰۰۸، ۵۰۰۸، ۵۰۰۹، ٥٠٥۱۔