صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 611 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 611

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۱۱ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن کے اوقات میں قرآن شریف لکھا کرتا تھا۔چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اُس نے اپنی عمر میں سات نسخے قرآن کریم کے لکھے۔پھر مسلمانوں میں حفظ قرآن کی شروع سے اتنی کثرت پائی جاتی ہے کہ ہر زمانہ میں ایک لاکھ سے دولاکھ تک حافظ دنیا میں موجود رہا ہے بلکہ اس سے بھی بہت زیادہ حافظ حصوں دنیا میں پائے جاتے ہیں۔حافظ اُس کو کہتے ہیں جو شروع سے لے کر آخر تک اس کے تمام کو یاد رکھتا ہے۔عام طور پر یورپین مصنف اپنی ناواقفی کی وجہ سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ جبکہ دنیا میں بائبل کا کوئی حافظ نہیں ملتا تو قرآن شریف کا کوئی حافظ کہاں ہو سکتا ہے حالانکہ قرآن کریم کا یہ معجزہ ہے کہ وہ ایسی سریلی زبان میں نازل ہوا ہے کہ اس کا حفظ کرنا نہایت ہی آسان ہے۔میرا بڑالڑکا ناصر احمد جو آکسفورڈ کا بی۔اے آنرز اور ایم۔اے ہے میں نے اُسے دنیوی تعلیم سے پہلے قرآن کریم کے حفظ پر لگایا اور وہ سارے قرآن کا حافظ ہے۔قادیان میں دو ڈاکٹر حافظ ہیں۔اسی طرح اور بہت سے گریجوایٹ اور دوسرے لوگ حافظ ہیں۔جن ڈاکٹروں کا میں نے ذکر کیا ہے اُن میں سے ایک نے صرف چار پانچ مہینے میں قرآن شریف حفظ کیا تھا، چوہدری سر ظفر اللہ صاحب حج فیڈرل کورٹ آف انڈیا ( حال وزیر خارجہ پاکستان کے والد صاحب نے اپنی آخری عمر میں جبکہ وہ قریباً ساٹھ سال کے تھے ، چند مہینوں میں سارا قرآن حفظ کر لیا تھا۔حافظ غلام محمد صاحب سابق مبلغ ماریشس نے تین مہینہ میں قرآن شریف حفظ کیا تھا۔نواب جمال الدین خاں صاحب جو ایک سابق والیہ کر یاست بھوپال کے خاوند تھے اُن کے ایک نو اسے مجھے حج میں ملے تھے جنہوں نے مجھ سے ذکر کیا کہ اُنہوں نے ایک مہینہ میں سارا قرآن شریف حفظ کیا تھا۔اس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ قرآن کریم کی عبارت اس قسم کی ہے کہ اس کا حفظ کرنا دو بھر معلوم نہیں ہوتا۔میں نے بڑے بڑے بوڑھے لوگوں سے سنا ہے کہ میرے جد امجد مرزا گل محمد صاحب جو عالمگیر ثانی کے وقت میں تھے باوجود اس کے کہ کوئی بہت بڑے رئیس نہیں تھے اُن کی ریاست صرف اڑھائی سو مربع میل کے علاقہ پر حاوی تھی، ان کے دربار میں پانچ سو حافظ موجود رہتا تھا۔ہندوستان جیسے ملک میں جو عربی زبان سے بہت ہی نا واقف ہے، بعض حصے ایسے پائے جاتے ہیں جن میں صدیوں سے اکثر لوگ حافظ چلے آتے ہیں۔ایک ترکیب مسلمانوں نے قرآن کریم کی حفاظت کی یہ بھی اختیار کر رکھی ہے اور جس ترکیب پر صدیوں سے عمل ہوتا چلا آ رہا ہے کہ جو پیدائشی نابینا ہوتے ہیں ان کو قرآن شریف حفظ کر ا دیتے ہیں اور یہ خیال کیا جاتا ہے کہ نابینا کوئی دنیوی کام تو کر نہیں سکتا کم سے کم وہ قرآن کی خدمت ہی کرے گا۔یہ رواج اتنا غالب ہے کہ