صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 610
صحیح البخاری جلد ۱۲ ٦١٠ ۶۶- کتاب فضائل القرآن كَالبَيْتِ الخَرِب الحرب ، یقینا وہ شخص جس کے دل میں قرآن کا کچھ حصہ ( یاد ) نہ ہو، وہ ویران گھر (یاد) نہ ہو ، وہ ویران گھر کی طرح ہے۔ پس جیسے ویران گھر خیر و برکت اور رہنے والوں سے خالی ہوتا ہے ، ایسے ہی اس شخص کا دل خیر و برکت اور روحانیت سے خالی ہوتا ہے جسے قرآن مجید کا کوئی بھی حصہ یاد نہ ہو۔ اور ایسا زمانہ مسلمانوں پر کبھی نہ آئے کہ خدا کے رسول کی طرف سے انہیں یہ شکوہ پہنچے وَقَالَ الرَّسُولُ يُرَبِّ إِنَّ قَوْمِي اتَّخَذُوا هَذَا الْقُرْآنَ مَهْجُورًا (الفرقان: ۳۱) اور رسول نے کہا، اے میرے رب ! میری قوم نے اس قرآن کو پیٹھ کے پیچھے پھینک دیا ہے۔ مسلمانوں نے اس سبق کو خوب یاد رکھا اور نزول قرآن سے لے کر تا حال صدیوں پر صدیاں گزر گئیں مگر کبھی کوئی زمانہ قرآن کریم پر ایسا نہیں آیا جب اس کے حفاظ لاکھوں کی تعداد میں روئے زمین پر نہ پائے گئے ہوں اور یہ سلسلہ روز افزوں انسانی آبادی کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے مگر اس سبق کو نسلاً بعد نسل یاد کرواتے چلے جانا ہر مسلمان کا فرض ہے اور فی زمانہ اس کی اہمیت اور ضرورت اور بھی بڑھ گئی ہے جب کمپیوٹر، آئی پیڈ وغیرہ جدید آلات کے ذریعہ سے انسان اس وہم کا شکار ہوتا جا رہا ہے کہ ان ایجادات کی صورت میں میرے پاس ہر چیز محفوظ ہے جب چاہوں نکال سکتا ہوں۔ اگرچہ یہ بات ایک حد تک صحیح ہے مگر ان ایجادات کو استعمال کرنے والے جانتے ہیں کہ بعض لحاظ سے یہ ذریعہ سب سے زیادہ غیر محفوظ ، غیر یقینی اور ناقابل اعتبار ہے۔ نہ جانے کب کوئی فائل کر پٹ ہو جائے یا خدانخواستہ متوقع ایٹمی جنگوں کی ان ہولناکیوں میں سب کچھ مٹ جائے اور صرف وہی بچے جو انسانی سینوں اور ذہنوں میں محفوظ ہو۔ ظاہری ذرائع پر انحصار کرنے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت بھی ناکافی سمجھتے ہوئے قرآن مجید کو یاد کرنے کی تلقین فرمائی ۔ جیسا کہ فرمایا: اقْرَبُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَغُرَّنَّكُمْ هَذِهِ الْمَصَاحِفُ الْمُعَلَّقَةُ فَإِنَّ اللَّهَ لَنْ يُعَذِّبَ قَلْبًا وَعَى القرآن کے قرآن پڑھو اور تمہیں یہ لکھے ہوئے صحیفے اس دھوکے میں نہ ڈالیں ( کہ تمہارے پاس قرآن محفوظ صورت میں موجود ہے۔ بلا شبہ اللہ تعالیٰ اس دل کو عذاب سے محفوظ رکھے گا جس میں قرآن (کانور) موجود ہے۔ اس حدیث میں انسان کی حفاظت کی ایک خوبصورت پیشگوئی کی گئی ہے کہ وہ انسان محفوظ رہیں گے جن کے سینے میں خدا کا کلام محفوظ ہے۔ اور اس میدان میں بلا خوف تردید یہ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی جاسکتی ہے کہ قرآن کریم دینا کی واحد کتاب ہے جس کے حفاظ سینکڑوں نہیں، ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں سے بھی زیادہ آج موجود ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: چونکہ قرآن شریف کے پڑھنے اور لکھنے اور پھیلانے کو بہت بڑا ثواب قرار دیا گیا تھا اس لئے اسلامی حکومت میں بڑے بڑے علماء اور بادشاہ تک قرآن کریم کی کاپیاں لکھا کرتے تھے۔ عرب اور اس کے ارد گرد کے بادشاہوں اور علماء کا تو ذکر چھوڑو ہندوستان جیسے ملک میں جو عرب سے بہت دور واقع ہو ا تھا اور جہاں ہندو رسم ورواج غالب آچکا تھا مغل بادشاہ اور نگ زیب اپنی فرصت (ترمذی، ابواب فضائل القرآن، باب ۱۸) (سنن الدارمي، ومن كتاب فضائل القرآن، باب فضل من قرأ القرآن)