صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 609 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 609

صحیح البخاری جلد ۱۲ ٢٠٩ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن أَذْكَرَنِي آيَةَ كَذَا وَكَذَا كُنْتُ رحم کرے۔ اس نے تو مجھے فلاں فلاں آیت یاد أُنْسِيْتُهَا مِنْ سُوْرَةِ كَذَا وَكَذَا۔ دلا دی ہے جو مجھے فلاں فلاں سورۃ سے بھول أطرافه: ٢٦٥٥، ٥٠٣٧، ٥٠٤٢، ٦٣٣٥- گئی تھی۔ ٥٠٣٩ : حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ حَدَّثَنَا ۵۰۳۹: ابونعیم نے ہم سے بیان کیا کہ سفیان سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ أَبِي وَائِلٍ (بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے منصور سے، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ منصور نے ابو وائل سے، ابو وائل نے حضرت صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِئْسَ مَا عبد الله (بن مسعود) سے روایت کی۔ انہوں نے لِأَحَدِهِمْ يَقُوْلُ نَسِيْتُ آيَةً كَيْتَ کہا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کسی کو نہ چاہیے وَكَيْتَ بَلْ هُوَ نُسِيَ۔ طرفه: ٥٠٣٢ کہ یوں کہے: میں نے فلاں فلاں آیت بھلا دی بلکہ یوں کہنا چاہیے: مجھے بھول گئی۔ تشريح الْقِرَاءَةُ عَنْ ظَهْرِ الْقَلْبِ اسْتِذْكَارُ الْقُرْآنِ وَتَعَاهُدُهُ: مذکورہ بالا او اب ۲۲ سے ۲۶ کے عناوین میں امام بخاری جو روایتیں لائے ہیں ان کا ماحاصل یہ ہے کہ قرآن کریم کو یاد کرنا چاہیے اور یادرکھنا چاہیے اور اپنی بیوی بچوں اور عزیزوں کو بھی قرآن کریم یاد کراتے رہنا چاہیے اور اس کو بار بار دہراتے رہنا ضروری ہے ورنہ قرآن کریم جتنا آسانی سے یاد ہو جاتا ہے اتنا ہی جلد بھول بھی جاتا ہے۔ اس لیے اس کا اہتمام اور تعاہد کرنا قرآن کے آداب میں سے ہے۔ ان روایات میں اس بات کی تنبیہ کی گئی ہے کہ غفلت، بے اعتنائی اور عدم توجہ کی وجہ سے قرآن کریم کو بھلا دینا بہت معیوب بات ہے۔ ہاں طبعاً انسانی مزاج میں یہ نقص ہے کہ اسے بعض باتیں بھول جاتی ہیں اور یہ بشری تقاضا ایسا ہے جس سے انبیاء بھی باہر نہیں۔ دراصل انسانی ذہن بھی باقی اعضاء اور حسوں کی طرح اپنی ذات میں محفوظ نہیں جب تک اللہ تعالیٰ کی حفاظت اور مدد شامل حال نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کے اس فضل کو جذب کرنے کا طریق یہ ہے کہ انسان بار بار کی مشق سے اپنی ذہنی استعداد کو بیدار رکھے اور اس سے کام لے کر اس کے ذریعہ ا لے کر اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے عظیم کلام اور نعمت کاملہ کی حفاظت اور برکت سے خود بھی حصہ لے اور دوسروں کو بھی اس نور سے منور کرتا چلا جائے۔ یوں چراغ سے چراغ جلتے چلے جائیں اور وہ روشنی جو عرب سے چلی اور تاقیامت چلتی جائے گی اس کو کو کسی دور کے مسلمان کبھی بجھنے نہ دیں۔ اور اپنے گھروں کو اس کی برکت سے ہمیشہ آباد رکھیں۔ جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الَّذِي لَيْسَ فِي جَوْفِهِ شَيْءٍ مِنَ القُرْآنِ