صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 606
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۰۶ ۶۶- کتاب فضائل القرآن قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ مُغَفَّل ابو ایاس نے خبر دی۔انہوں نے کہا کہ میں نے قَالَ رَأَيْتُ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى الله حضرت عبد اللہ بن مغفل سے سنا۔وہ کہتے تھے: عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ فَتْح مَكَّةَ وَهُوَ يَقْرَأُ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح مکہ کے دن دیکھا اور اس وقت آپ اپنی اونٹنی پر سوار عَلَى رَاحِلَتِهِ سُوْرَةَ الْفَتْحِ۔أطرافه: ٤٢٨١، ٤٨٣٥، ٥٠٤٧، ٧٥٤٠۔سورۃ الفتح پڑھ رہے تھے۔تشریح : الْقِرَاءَةُ عَلَى الدابة: سواری پر قرآن کریم پڑھنے کے بارے میں دو قسم کی آراء پائی جاتی ہیں۔بعض لوگوں کے نزدیک یہ مکروہ ہے۔امام بخاری نے ان روایات کو قبول نہیں کیا بلکہ اپنی صحیح میں اس روایت (نمبر ۵۰۳۴) کو لیا ہے جس میں یہ ذکر ہے کہ فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سورۃ الفتح کی تلاوت فرمارہے تھے۔امام ابن حجر لکھتے ہیں کہ امام بخاری نے اس عنوان سے ان لوگوں کارڈ کیا ہے جو سواری پر سوار ہونے کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کو مکروہ سمجھتے ہیں اور امام ابن داؤد نے ایک سند سے اس کے جواز کو نقل کیا۔اور علامہ ابن بطال نے کہا ہے کہ امام بخاری نے اس عنوان باب سے یہ بتایا ہے کہ سوار ہونے کی حالت میں قرآن مجید کی تلاوت کرنا مسنون ہے اور اس کی سنت کی اصل درج ذیل آیت سے ثابت ہوتی ہے: لِتَستَوا عَلَى ظُهُورِهِ ثُمَّ تَذْكُرُوا نِعْمَةَ رَبَّكُمْ إِذَا اسْتَوَيْتُمُ عَلَيْهِ (الزخرف: ۱۴) تاکہ تم ان کی پیٹھوں پر جم کر بیٹھ سکو۔پھر جب تم ان پر اچھی طرح قرار پکڑ لو تو اپنے رب کی نعمت کا تذکرہ کرو اور کہو پاک ہے وہ جس نے اسے ہمارے لیے مسخر کیا۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۱۰۴) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے بھی سواری پر قرآن کریم پڑھنا ثابت ہے۔حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بیان فرماتے ہیں: ایک صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پالکی میں بیٹھ کر قادیان سے بٹالہ تشریف لے جا رہے تھے اور یہ سفر پالکی کے ذریعہ قریباً پانچ گھنٹے کا تھا۔حضرت مسیح موعود نے قادیان سے نکلتے ہی اپنی حمائل شریف کھول لی اور سورۂ فاتحہ کو پڑھنا شروع کیا اور برابر پانچ گھنٹے تک اسی سورۃ کو اس استغراق کے ساتھ پڑھتے رہے کہ گویا وہ ایک وسیع سمندر ہے جس کی گہرائیوں میں آپ اپنے ازلی محبوب کی محبت و رحمت کے موتیوں کی تلاش میں غوطے لگا رہے ہیں۔“ (سیرت طیبہ مصنفہ حضرت مرزا بشیر احمد، صفحه ۱۲،۱۱)