صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 594 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 594

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۹۴ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن سے امن کے احکام اور صلح کی تعلیم پیش فرمائی اور بتایا کہ اللہ تعالیٰ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو واضح الفاظ میں فرمایا ہے کہ لَستَ عَلَيْهِمْ بِرِهِ إِلَّا مَنْ تَوَلَّى وَكَفَرَ فَيُعَذِّبُهُ اللَّهُ الْعَذَابَ الأكبر (الغاشية: ۲۳) یعنی تجھے اس لئے نہیں بھیجا گیا کہ تو لوگوں سے جبری طور پر اپنا مذہب منوائے۔نہ ہم نے اُن پر جبر کرنے کے لئے بھیجا ہے جو منہ پھیر لیتے ہیں اور کفر اختیار کرتے ہیں۔ان لوگوں کو سزا دینا خدا کا کام ہے ، تیرا کام نہیں۔کیونکہ خدا دلوں کے حالات کو جانتا ہے تو نہیں جانتا۔یہ دوسرا بطن تھا جو اس زمانہ کے حالات کے مطابق آپ پر کھولا گیا۔اور اسلام کی تائید میں تلوار اُٹھانے سے منع کیا گیا۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا کہ قرآن کریم کے سات بطن ہیں اس کے ایک معنے یہ ہیں کہ دنیا میں سات بڑے بڑے تغیرات آئیں گے اور ہر تغیر کے زمانہ میں لوگوں کے ذہن بدل جائیں گے۔اس وقت خدا تعالیٰ قرآن کریم کے ایسے معنے کھول دے گا جو لوگوں کے اس وقت کے ذہنوں اور قلوب کو تسلی دینے والے ہوں گے۔اس زمانہ میں بیسیوں مسائل ایسے رنگ میں کھلے ہیں کہ پہلے ان کی ضرورت اور اہمیت محسوس نہیں کی جاسکتی تھی مثلاً آیات قرآنی کے نسخ کا مسئلہ ہے۔پہلے ایسے وقت میں نسخ کا سوال پیدا ہوا کہ اس وقت کے لوگوں کے نزدیک اس کی کوئی اہمیت نہ تھی۔کیونکہ ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عمل تھا۔پس باوجو د نسخ کے عقیدہ کے یہ بات قرآن کریم کی سچائی کے معلوم کرنے میں روک نہ بن سکتی تھی لیکن جب ایسا زمانہ آیا کہ لوگ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ سے دور ہوئے اور دنیا کے ذہنی اور علمی تغیر کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنے نہ کر سکے تو کہنے لگے یہ آیت بھی منسوخ ہے اور وہ آیت بھی منسوخ ہے۔اس وقت اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کھڑا کیا اور آپ نے ثابت کیا کہ قرآن کریم کی کوئی آیت ان معنوں میں منسوخ نہیں ہے کہ اس پر عمل نہیں کیا جاسکتا۔اور جن آیات کو منسوخ قرار دیا جاتا تھا ان کے ایسے معنے بیان فرمائے جنہیں لوگوں کی عقلیں بآسانی قبول کر سکتی ہیں۔یہ ان آیات کا دوسرا بطن تھا جو خدا تعالیٰ نے آپ پر کھولا۔تو قرآن کریم کے سات بطن سے مراد سات عظیم الشان ذہنی اور عقلی اور علمی تغیرات ہو سکتے ہیں اور اس میں بتایا گیا ہے کہ ہر ایسے تغیر میں قرآن کریم قائم رہے گا اور کوئی یہ نہیں کہہ