صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 595
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۹۵ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن سکے گا کہ ہمارے زمانہ کی ضروریات کو قرآن پورا نہیں کرتا۔باقی الہامی کتابیں تو ایسی ہیں کہ جن کے متعلق ہم کہہ سکتے ہیں کہ جب زمانہ بدلا اور دنیا میں تغیر آیا تو ان کتب میں جو کلام تھا اس کے وہ معنے نہ نکلے جو اس زمانہ کے ذہنوں کے مطابق ہوتے۔اس لئے وہ قابل عمل نہ رہیں مگر قرآن کریم کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جوں جوں دنیا میں تغیر آتے جائیں گے اور لوگ قرآن پڑھیں گے اس زمانہ کی ضروریات کو پورا کرنے والا مفہوم اس میں سے نکلتا آئے گا اور لوگ تسلیم کریں گے کہ ہاں قرآن کریم ہی اس زمانہ کے لئے بھی کافی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی اس زمانہ کے لئے بھی رسول ہیں۔“ ( تفسير كبير، سورۃ العنکبوت، جلدی صفحه ۶۶۶،۶۶۵) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ مزید فرماتے ہیں: اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن کریم نے کہا ہے کہ فِيْهَا كُتُبُ قَيْمَةٌ (البينة : ٤) یعنی اس کے اندر تمام ایسی تعلیمیں پائی جاتی ہیں جو قیامت تک کام آنے والی ہیں اور کوئی ایسی تعلیم جو دائمی ہو اس سے باہر نہیں رہی۔“ تفسیر کبیر، سورۃ العنکبوت، جلدے صفحہ ۲۶۷) آپ مزید فرماتے ہیں: "حقیقت یہ ہے کہ ہر زمانہ کی ضرورت کے مطابق اس کے نئے نئے معانی اور مطالب نکلتے آئیں گے کیونکہ یہ مجید خدا کا نازل کردہ کلام ہے جو كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ (الرحمن: ٣٠) کا مصداق ہے۔جب نئے معنوں میں یہ چیزیں پائی جاتی ہوں کہ قرآنی آیات ان کی مصدق ہوں ، فطرت انسانی ان کی تصدیق کرے اور پھر لغت عرب بھی ان کے خلاف نہ ہو تو وہ ٹھیک ہوں گے۔“ ( تفسیر کبیر، سورۃ العنکبوت، جلدے صفحہ ۶۶۹) آپ مزید فرماتے ہیں: پس قرآن کریم نہ فیل ہوا نہ آئندہ کبھی فیل ہو گا بلکہ یہ قیامت تک فیل نہیں ہو گا۔زمین بدل سکتی ہے، آسمان بدل سکتا ہے ، ایک قوم کی جگہ دوسری قوم آسکتی ہے، ایک حکومت مئے تو اس کی جگہ دوسری حکومت آسکتی ہے، زبانیں مٹ سکتی ہیں لیکن قرآن کریم کبھی فیل نہیں ہو سکتا۔یہ خدا تعالیٰ کا نازل کردہ آخری قانون ہے جو ہمیشہ قائم رہے گا۔اور جو شخص یہ کہتا ہے کہ یہ فیل ہو گیا ہے وہ جھوٹ بولتا ہے اور ہم اب بھی اسے چیلنج کرتے ہیں کہ وہ قرآن کریم