صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 593
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۹۳ ۷۶ - کتاب فضائل القرآن مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تری جبینِ نیاز میں میرا نور شکل ہلال میں مرا حسن بدر کمال میں کبھی دیکھ طرز جمال میں کبھی دیکھ شان جلال میں رگِ جاں سے ہوں میں قریب تر، ترا دل ہے کس کے خیال میں مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تری جبینِ نیاز میں در عدن ، نشان حقیقت کی آرزو، صفحہ ۷۱، ۷۲) قَالَ سُفْيَانُ تَفْسِيرُهُ يَسْتَغْنى به: امام بخاری نے سفیان ثوری کے حوالے سے يَتَغَنَّ بِالْقُرْآنِ کے یہ معنی بھی کیے ہیں کہ وہ قرآن کے ذریعہ سے ( تمام دوسری کتابوں سے) بے پرواہ ہو جائے۔یعنی قرآن کریم اس کی تمام ضرورتوں کا کفیل وضامن ہو۔انہی معنوں کی تائید میں امام بخاری عنوانِ باب میں سورۂ عنکبوت کی یہ آیت لائے ہیں: أَو لَمْ يَكْفِهِمْ أَنَّا أَنزَلْنَا عَلَيْكَ الْكِتَبَ يُثلى عَلَيْهِمُ (العنكبوت:۵۲) کیا انہیں کافی نہیں کہ ہم نے تجھ پر یہ کتاب اُتاری ہے جو ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں: قرآن کریم قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے کس طرح کافی ہو سکتا ہے جبکہ ہر زمانہ اپنے ساتھ نئی ضروریات لاتا اور نئے تغیرات پیدا کرتا ہے۔اس لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شبہ کے ازالہ کے لئے فرما دیا کہ قرآن کریم کے سات بطن ہیں۔عام طور پر لوگوں نے اس حدیث کو پوری طرح نہیں سمجھا۔اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ مختلف زمانوں کے تغیرات کے مطابق قرآن کریم کی آیات کے معنے کھلتے جائیں گے۔یہی وجہ ہے کہ پہلے لوگوں کو قرآن کریم کی کئی آیات کے وہ معنے نظر نہ آئے جو بعد میں تغیر آنے والے زمانہ کے لوگوں کو نظر آئے۔اب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے قرآن کریم کے جو نکات اور معارف نکالے وہ قرآن کریم میں نئی آیات داخل کر کے نہیں نکالے آیات وہی تھیں ہاں آپ پر اس زمانہ کے مطابق ان کا بطن ظاہر ہوا۔چونکہ زمانہ کے حالات بدلتے رہتے ہیں اور موجودہ زمانہ مذہب کے متعلق امن اور صلح کا زمانہ تھا اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے قرآن کریم