صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 592 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 592

۵۹۲ صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن توحید اور اس کے رسول کی رسالت، خدا کی عبادت اور انسان کی فلاح پر مشتمل اعلان کو اذان کی صورت میں بآواز بلند دہرانے کا حکم دیا ہے جس سے ہر قسم کی شیطانی طاقتیں سرنگوں ہو کر بھاگتی ہیں اور خدا تعالیٰ کی منشاء کے مطابق انسان کی فلاح، رشد اور ترقیات کے سامان پیدا کیے جاتے ہیں۔دنیا میں یہ عام محاورہ بیان کیا جاتا ہے کہ موسیقی روح کی غذا ہے جسے لوگوں نے گندے قسم کے نغمات اور شہوانی جذبات انگیخت کرنے والی آوازوں اور اداؤں سے منسوب کر رکھا ہے۔یہ بگڑی ہوئی فطرت کی طلب تو ہو سکتی ہے، فطرت صحیحہ کی ترجمان اسے نہیں کہا جا سکتا۔فطرت انسانی یہ ہے، فرمایا: فِطْرَتَ اللَّهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا۔(الروم : ۳۱) یعنی اللہ کی (پیدا کی ہوئی) فطرت کو اختیار کر ( وہ فطرت) جس پر اللہ نے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔پس اس فطرتِ انسانی کی غذا ذرات کائنات سے اٹھنے والی آوازیں ہیں جو خالق و مالک کے وجود کا پتا دیتی اور اس کی طرف راہنمائی کرتی ہیں۔وہی در اصل روح کی غذا ہیں اور یہ آوازیں کائنات عالم میں ہر سو سنائی دیتی ہیں۔اس مضمون کو حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ رضی اللہ عنہا نے ایک فلسفی کو خالق و مالک کی راہ دکھاتے ہوئے یوں نظم کیا ہے: مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں جو خلوص دل کی رمق بھی ہے ترے ادعائے نیاز میں ترے دل میں میرا ظہور ہے ترا سر ہی خود سرِ طور ہے تری آنکھ میں مرا نور مجھے کون کہتا ہے ہے دور ہے تری نظر کا قصور ہے مجھے دیکھتا جو نہیں ہے تو، یہ مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تری جبینِ نیاز میں مجھے دیکھ رفعت کوہ میں مجھے دیکھ پستی کاہ میں مجھے دیکھ عجز فقیر میں مجھے دیکھ شوکت شاہ میں دکھائی دول تو یہ فکر کر کہیں فرق ہو نہ نگاہ میں مجھے دیکھ طالب منتظر مجھے دیکھ شکل مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں تری جبینِ نیاز میں مجھے ڈھونڈ دل کی تڑپ میں تو مجھے دیکھ روئے نگار میں کبھی بلبلوں کی صدا میں سن کبھی دیکھ گل کے نکھار میں میری ایک شان خزاں میں ہے میری ایک شان بہار میں نه