صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 39
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۹ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الزخرف دونوں الفاظ “ سے مشتق ہیں جس کے معنی کسی شئے کی اصل اور بنیاد کے ہوتے ہیں۔ ہوتے ہیں۔ (مقاييس اللغة، أم ) گویا یہ بتایا جا رہا ہے کہ مشرکین کے مشرکانہ عقائد کی بنیاد کسی الہی تعلیم میں نہیں، وہ محض اپنے آبا ؤ اجداد کے مسلک کو ہی امام بنائے بیٹھے ہیں اور اس کی اتباع کر رہے ہیں۔ مشرکین کی اس فرسودہ دلیل کے مقابل اللہ تعالیٰ نے سورۃ الزخرف کے آغاز ہی میں فرمایا ہے کہ انه في ام الکتبِ لَدَيْنَا لَعَلى حَكِيمٌ (الزخرف:۵) یقینا یہ (قرآن) ام الکتاب میں ہے (اور ) ہمارے نزدیک ضرور بہت بلند شان (اور) حکمت والا ہے۔ باب (نمبر 1) میں امام بخاری نے اُمّ الکتب کے معنی أَصل الکتاب بیان کر کے اسی مضمون کی طرف دوبارہ توجہ دلائی ہے۔ قابلِ تقلید امام تو وہ الہی تعلیم ہے جو صحیفہ فطرت میں ایک اصل کے طور پر موجود ہے۔ اور تمام مذاہب نے اسی اصل کو پیش کیا ہے۔ منکرین اس جڑ کو پکڑنے کی بجائے اس تعلیم کے بگاڑ کے زمانہ کے رسم و رواج کی تقلید کو اپنا قبلہ اور امام بنا لیتے ہیں۔ امام بخاری نے سورہ زخرف کی آیت نمبر ۲۴ میں بیان لفظ مُقْتَدُون سے بھی اسی طرف اشارہ کیا ہے اور بتایا ہے کہ ”امة“ یعنی لوگ قابل تقلید نمونہ نہیں ہوتے بلکہ قابل تقلید وہ امام ہوتا ہے جو لوگوں کو واپس اس اصل پر لے جاتا ہے جو تمام مذاہب کی ماں ہے۔ یعنی چشمہ تو چشمۂ توحید جو رسم و رواج اور شرک و بدعت کے تمام گند دھوکے دھو کر سب کو خدا۔ کو خدائے واحد کے بندے اور ایک امت بنا دیتا ہے۔ امام بخاری نے امام اور اُمة کے الفاظ سے ان مضامین کی کلید ہمیں تھمادی ہے۔ حضرت مصلح موعود اس پر روشنی ڈالتے ہوئے کہ تمام مذاہب ایک ہی سر چشمے سے نکلے ہیں، فرماتے ہیں: اس جگہ ایک استعارہ استعمال کیا گیا ہے کہ تمام شریعتیں کسی اصل کے نیچے ہوتی ہیں اور وہ اصل کتاب کے لیے بطور ماں کے ہوتا ہے جس طرح ایک عورت انسانوں کے لیے ماں ہوتی ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ قرآن أم الكتب میں ہے یعنی جو اصولی کتاب دنیا میں نازل کرنی خدا تعالیٰ کے مد نظر تھی اس میں یہ قرآن شامل تھا۔ گویا ازل سے خدا تعالیٰ کے یہ مد نظر تھا کہ دنیا کی کامل ہدایت کے لیے وہ قرآن کریم بھجوائے گا۔ (تفسیر صغیر، سورة الزخرف، حاشیه آیت ۵) انَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجُوهُمُ : پوری آیت یہ ہے : اَمْ ! آیت یہ ہے : اَمْ يَحْسَبُونَ اَنَّا لَا نَسْبَعُ سِرَّهُمْ وَنَجُولُهُمْ بَلَى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُونَ (الزخرف: (۸) کیا وہ یہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوش ان کی پوشیدہ باتوں اور پوشیدہ مشوروں کو نہیں سنتے؟ یہ بات نہیں بلکہ ہمارے رسول ان - رسول ان کے پہلو میں بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں: عام مفسرین تو اس سے فرشتے مراد لیتے ہیں لیکن چونکہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمُ الْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَ أَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوا عُمَلُونَ ) (نور: (۲۵) جس سے معلوم ہوتا ہے کہ فر تا ہے کہ فرشتے ہی نہیں انسان کا اپنا بدن