صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 38
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۸ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الزخرف اللَّهُ تَعَالَى مَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ کی اولاد میں۔ مُقترنین ساتھ ساتھ چلتے ہوئے۔ (الزخرف: ۲۱) الْأَوْثَانُ إِنَّهُمْ لَا يَعْلَمُونَ۔ سَلَفًا سے مراد فرعون کی قوم ہے کہ وہ محمد صلی اللہ في عَقِيه (الزخرف:۲۹) وَلَدِهِ مُقْتَرِنِينَ علیہ وسلم کی اُمت میں جو کافر ہیں اُن کے لیے ماضی (الزخرف: ٥٤) يَمْشُونَ مَعًا ۔ سَلَفًا کا واقعہ ہیں۔ مَثَلًا لِلْآخِرِينَ) کے معنی ہیں (الزخرف: ٥٧) قَوْمُ فِرْعَوْنَ سَلَفًا لِكُفَّارِ (پھلوں کے لئے) عبرت۔ يَصِدُّونَ کے معنی أُمَّةِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ہیں وہ شور و غل مچاتے ہیں۔ مُبرِمُونَ یعنی قرار وَ مَثَلًا (الزخرف: ٥٧) عِبْرَةً ۔ يَصِدُّونَ دینے والے ہیں۔ أَوَّلُ الْعَبدِین کے معنی ہیں سب (الزخرف: ٥٨) يَضِجُّونَ مُجْرِمُونَ سے پہلا مؤمن اننِي بَرَاء مِمَّا تَعْبُدُونَ یعنی (الزخرف:۸۰) مُجْمِعُونَ أَوَّلُ الْعِبِدِينَ میں اس سے بالکل الگ ہوں جس کی تم عبادت (الزخرف: ۸۲) أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ اِنَّنِي کرتے ہو۔ عرب کہتے ہیں: نَحْنُ مِنْكَ الْبَرَاءُ بَرَاء مِمَّا تَعْبُدُونَ (الزخرف: ۲۷) الْعَرَبُ والخلاء ہم تم سے بالکل الگ تھلگ ہیں۔ واحد ، تَقُولُ نَحْنُ مِنْكَ الْبَرَاءُ وَالْخَلَاءُ وَالْوَاحِدُ تثنیه، جمع، مذکر و مؤنث سب کے لیے برا ہی وَالاثْنَانِ وَالْجَمِيعُ مِنَ الْمُذَكَّرِ وَالْمُؤَنَّثِ کہتے ہیں کیونکہ یہ مصدر ہے۔ اور اگر کوئی کہے يُقَالُ فِيهِ بَرَاءٌ لِأَنَّهُ مَصْدَرٌ وَلَوْ قَالَ بَرِئَ تو تثنیہ کے لئے بریشان کہا جائے گا اور جمع کے لئے بریشون کہا جائے گا۔ اور حضرت عبد اللہ بَرِيءٌ لَقِيلَ فِي الاثْنَيْنِ بَرِيتَانِ وَفِي الْجَمِيعِ بَرِيئُونَ۔ وَقَرَأَ عَبْدُ اللَّهِ إِنَّنِي (بن مسعود) نے انہی بری یاء سے پڑھا۔ اور بَرِيءٌ بِالْيَاءِ وَالرُّحْرُفُ الذَّهَبُ زُخْرُف کے معنی ہیں سونا۔ مَلَيكَةً يَخْلُفُونَ ایسے مليكة (الزخرف: (٦١) يَخْلُفُونَ يَخْلُفُ فرشتے جو ایک دوسرے کے پیچھے آتے ہیں۔ بَعْضُهُمْ بَعْضًا۔ تشريح : وَقَالَ مُجَاهِدٌ عَلَى أمة ۔۔۔ الله تعالی فرماتا ہے: بَلْ قَالُوا إِنَّا وَجَدْنَا آبَاءَنَا عَلَى أُمَّةٍ وَ إِنَّا عَلَى أَثْرِهِمْ مُهْتَدُونَ (الزخرف: (۲۳) ایسا نہیں، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ لوگ اس بات پر مصر ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادوں کو ایک طریقہ پر پایا تھا اور ہم انہی کے نقش قدم پر چلتے جائیں گے۔ مفسرین علی امہ کے معانی ملت، دین اور امام بیان کرتے ہیں۔ 1۔ امام بخاری نے اس کے معنی ”امام“ کئے ہیں۔ أُمَّةٌ اور امام ا (معالم التنزيل فى تفسير القرآن للبغوی، تفسير سورة الزخرف آیت ۲۳، جزء ۴ صفحه ۱۵۷)