صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 587 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 587

۵۸۷ صحیح البخاری جلد ۱۲ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن قرآن کریم نے اپنے کامل جامع جمیع علوم اور فیوض کے سرچشمہ ہونے کا جگہ جگہ ذکر فرمایا ہے مثلاً فرمایا: تبيانا لكُل شَيْءٍ (النحل: (۹۰) یعنی وہ ہر بات کو کھول کھول کر بیان کرنے والی ہے۔تفصیل کے لیے دیکھئے مباحثہ لدھیانہ، روحانی خزائن جلد چہارم صفحه ۲۹،۲۲۔مَثَلُ الَّذِي يَقْرَأُ الْقُرْآنَ كَالْأُتُرجَةِ طَعْمُهَا طَيبُ وَرِيحُهَا طيب: اس حدیث میں تلاوت قرآن کریم کو پھل کے ذائقہ اور خوشبو دونوں سے تعبیر کیا گیا ہے۔گویا تلاوت کرنے والا ہر دو برکات پانے والا ہے۔اسے تلاوت کے نتیجے میں وہ لذت بھی ملے گی جو ایمان کا خاصہ ہے۔اور خوشبو بھی ملے گی جو ایمان کی علامت ہے۔علامہ ابن حجر لکھتے ہیں: سنگترہ کے ساتھ مثال دینے کی حکمت یہ ہے کہ یہ وہ پھل ہے جس میں ذائقہ بھی ہے اور اس میں خوشبو بھی ہے۔سنگتروں کے بیجوں کا غلاف سفید ہے جو مومن کے دل کے مشابہ ہے اور سنگتروں کے بہت فوائد ہیں جو طب کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ان میں سے بعض یہ ہیں کہ سنگترہ زود ہضم ہوتا ہے اور اس کا رس دماغ کی کار کردگی میں اضافہ کرتا ہے وغیرہ۔(فتح الباری جزء ۹ صفحہ ۸۴) فَذَاكَ فَضْلِى أُوتِيهِ مَنْ شِئْتُ : یہود و نصاری نے کہا: ہم کام تو زیادہ کریں اور دیئے جائیں تھوڑا۔تو اس نے کہا: کیا میں نے تمہیں تمہارے حق سے کم دیا ہے ؟ انہوں نے کہا: نہیں۔تو اس نے کہا: پھر یہ میرا انعام ہے جس کو چاہوں دوں۔حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب فرماتے ہیں: ا مَا الْأَعْمَالُ بِخَوَاتِيْهَا یعنی عمل کا انحصار خاتمہ پر ہے۔ایک کام شروع کر کے اس کو درمیان میں چھوڑ دینا نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔عمل کی قیمت تحمیل عمل سے ہے۔اس نکتہ معرفت کو سمجھانے کے لئے جو مثال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دی ہے وہ حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی دی ہے۔(دیکھئے: متی باب ۲۰، آیت: استا۱۶)۔اللہ تعالیٰ کا فضل بھی تحمیل عمل پر ہوتا ہے نہ کثرتِ عمل پر۔یہود و نصاری نے کہا: نحن كنا أكفر عملا کہ ہم بہت عمل کرنے والے ہیں مگر باوجود اس کے فضل الہی یہود و نصاری کے شامل حال نہ ہوا۔بغیر عذر کے کام چھوڑ دینا انسان کو کسی ثواب کا مستحق نہیں ٹھہراتا۔فَقَالُوا لَا حَاجَةً لَنَا إِلَى أَجْرِكَ- یہود و نصاری نے کہا: ہمیں تیری مزدوری کی ضرورت نہیں۔یہ کہہ کر بغیر کسی معقول سبب کے کام چھوڑ دیا اور اپنا معاہدہ پورانہ کیا۔جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اجر سے محروم ہو گئے۔( صحیح بخاری ترجمه و شرح، جلد اول صفحہ ۶۵۶) قرآن کریم نے اس مضمون کو سورۃ فاتحہ میں بیان فرمایا ہے کہ ایسے انعام یافتہ گروہ میں شامل ہونے کی دعا کر و جو انعام سے کبھی محروم نہ ہوں اور ان لوگوں کے انجام سے بچنے کی دعا کر وجو انعام پانے کے بعد اس انعام سے