صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 588 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 588

صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۸۸ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن محروم ہو گئے جیسے یہود و نصاریٰ انعام ملنے کے بعد پھر اپنی شامت اعمال کی وجہ سے اس انعام سے محروم ہو گئے۔یہ اللہ تعالیٰ کی دائمی سنت ہے کہ وہ کسی قوم سے انعام نہیں چھینتا جب تک وہ قوم اس انعام کی ناقدری کر کے خود اس انعام کو نہ چھوڑ دے۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا کے جواب میں فرمائی کہ یہ انعام ان تک رہے گا جو ظالم نہیں ہوں گے۔فرمایا: لا يَنالُ عَهْدِى الظَّلِمِينَ (البقرۃ:۱۲۵) ( ہاں مگر ) ظالموں کو میر اعہد نہیں پہنچے گا۔نیز ایک اور جگہ اسی سنت کا اعادہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ اللَّهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغيروا ما بانقيهم (الرعد: ١٣) اللہ کبھی بھی کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک کہ وہ اپنی اندرونی حالت کو نہ بدلے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ آج ہمیں خلافت کا جو انعام دیا گیا ہے یہ بھی ایمان اور عمل صالح کے ساتھ مشروط ہے۔ہاں انعام پانے والا یہ آخرین کا گروہ اگر اس انعام کی قدر کرے گا اور ان کا ایمان اور عمل صالح اس کی تصدیق کرے گا تو اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ ہمیشہ پورا ہو گا کہ یہ خلافت دائمی ہے اور اس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔باب ۱۸ : الْوَصَاةُ بِكِتَابِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ اللہ عزوجل کی کتاب پر عمل کرنے کی وصیت کرنا ٥٠٢٢: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ :۵۰۲۲ محمد بن یوسف (فریابی) نے ہم سے بیان حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ مِعْوَلٍ حَدَّثَنَا طَلْحَةُ کیا کہ مالک بن مغول نے ہمیں بتایا۔(انہوں نے قَالَ سَأَلْتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ أَبِي أَوْفَى کہا : ) طلحہ (بن مصرف) نے ہم سے بیان کیا۔أوْصَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انہوں نے کہا: میں نے حضرت عبد اللہ بن ابی فَقَالَ لَا فَقُلْتُ كَيْفَ كُتِبَ عَلَى اونی سے پوچھا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت النَّاسِ الْوَصِيَّةُ أُمِرُوْا بِهَا وَلَمْ يُوْصِ بھی کی؟ انہوں نے کہا: نہیں۔میں نے کہا کہ قَالَ أَوْصَى بِكِتَابِ اللهِ۔أطرافه: ٢٧٤٠، ٤٤٦٠ - لوگوں پر وصیت کیسے فرض کی گئی۔انہیں تو اس کا حکم دیا گیا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے وصیت نہیں کی۔(عبد اللہ نے) کہا: آپ نے کتاب اللہ پر عمل کرنے کی وصیت کی۔