صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 586
صحیح البخاری جلد ۱۲ DAY - کتاب فضائل القرآن أَعْطَيْتُهُ أَفَضَلَ مَا أُعْطِي السَّائِلِينَ، وَفَضْلُ كَلامِ اللهِ عَلَى سَائِرِ الكَلاَمِ كَفَضْلِ اللهِ عَلَى خَلْقِهِ ، حضرت ابو سعید بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔اللہ عزوجل فرماتا ہے: جس کو قرآن نے میرے ذکر سے اور مجھ سے مانگنے سے مشغول رکھا۔میں مانگنے والوں کو جو دیتا ہوں اس سے بڑھ کر اس کو دوں گا۔اور اللہ کے کلام کی فضیلت دیگر تمام کلاموں پر ایسی ہے جیسے اللہ کی اپنی مخلوق پر۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ”خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ الْخَيْرُ كُله في الْقُرْآنِ کہ تمام قسم کی بھلائیاں قرآن میں ہیں۔یہی بات سچ ہے۔افسوس اُن لوگوں پر جو کسی اور چیز کو اس پر مقدم رکھتے ہیں۔تمہاری تمام فلاح اور نجات کا سر چشمہ قرآن میں ہے۔کوئی بھی تمہاری ایسی دینی ضرورت نہیں جو قرآن میں نہیں پائی جاتی۔تمہارے ایمان کا مصدق یا مکذب قیامت کے دن قرآن ہے اور بجز قرآن کے آسمان کے نیچے اور کوئی کتاب نہیں جو بلا واسطہ قرآن تمہیں ہدایت دے سکے۔خدا نے تم پر بہت احسان کیا ہے جو قرآن جیسی کتاب تمہیں عنایت کی۔میں تمہیں سچ سچ کہتا ہوں کہ وہ کتاب جو تم پر پڑھی گئی اگر عیسائیوں پر پڑھی جاتی تو وہ ہلاک نہ ہوتے اور یہ نعمت اور ہدایت جو تمہیں دی گئی اگر بجائے توریت کے یہودیوں کو دی جاتی تو بعض فرقے ان کے قیامت سے منکر نہ ہوتے۔پس اس نعمت کی قدر کرو جو تمہیں دی گئی۔یہ نہایت پیاری نعمت ہے، یہ بڑی دولت ہے، اگر قرآن نہ آتا تو تمام دنیا ایک گندے مضغہ کی طرح تھی۔قرآن وہ کتاب ہے جس کے مقابل پر تمام ہدایتیں بیچ ہیں۔“ (کشتی نوح، روحانی خزائن جلد ۱۹ صفحه ۲۷،۲۶) حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں: نور فرقاں ہے جو سب نوروں سے اجلی نکلا پاک وہ جس سے یہ انوار کا دریا نکلا حق کی توحید کا مرجھا ہی چلا تھا پودا ناگہاں غیب سے یہ چشمہ اصفی نکلا ہے یا الہی تیرا فرقاں ہے کہ اک عالم جو ضروری تھا وہ سب اس میں مہیا نکلا سب جہاں چھان چکے ساری دکانیں دیکھیں مئے عرفان کا یہی ایک ہی شیشہ نکلا کس سے اس نور کی ممکن ہو جہاں میں تشبیہ وہ تو ہر بات میں ہر وصف میں یکتا نکلا پہلے سمجھے تھے کہ موسیٰ کا عصا ہے فرقاں پھر جو سوچا تو ہر اک لفظ مسیحا نکلا ہے قصور اپنا ہی اندھوں کا وگرنہ وہ نور ایسا چکا ہے کہ صد تیر بیضا نکلا (براہین احمدیہ حصہ سوم، روحانی خزائن جلد اول صفحه ۳۰۵) (ترمذی، ابواب فضائل القرآن، باب (۲۵)