صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 582
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۸۲ ۶۶- کتاب فضائل القرآن تشريح : نُزُولُ السَّكِينَةِ وَالْمَلَائِكَةِ عِنْدَ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ: قرآن کے پڑھنے کے وقت سکینت اور ملائکہ کا اترنا۔ اس باب میں امام بخاری نے سکینت اور ملائکہ کے ذکر کو اکٹھا بیان کیا ہے۔ زیر باب حدیث میں فرشتوں کا ذکر ہے مگر سکینت کا نہیں جبکہ سورۃ الکہف کی فضیلت والے باب کی حدیث (نمبر ۵۰۱۱) میں سکینت کا ذکر ہے لیکن فرشتوں کا ذکر نہیں ہے۔ امام بخاری نے اس باب میں دونوں باتوں کو اکٹھا بیان کر کے اس اشکال کو دور کیا ہے جو ان روایات سے بادی النظر میں دکھائی دیتا ہے۔ اور یہ بتایا ہے کہ سکینت کا نزول در اصل فرشتوں کے نزول کے ساتھ ہی ہے۔ اور دونوں احادیث میں قدر مشترک یہ ہے کہ دونوں میں ملائکہ کے نزول کی طرف اشارہ ہے جو سکینت کی صورت میں بیان کیا گیا ہے۔ باب ١٦ مَنْ قَالَ لَمْ يَتْرُكِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ الدَّفَّتَيْنِ جس نے یہ کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے اس کے جو مصحف کی اس جلد میں ہے اور کچھ نہیں چھوڑا ٥٠١٩ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ۵۰۱۹: قتیبہ بن سعید نے ہم سے بیان کیا کہ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ سفیان بن عیینہ) نے ہمیں بتایا۔ انہوں نے رُفَيْعٍ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَشَدَّادُ بْنُ عبدالعزیز بن رفیع سے روایت کی۔ انہوں نے مَعْقِل عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللهُ :کہا: میں اور شداد بن معقل حضرت ابن عباس عَنْهُمَا فَقَالَ لَهُ شَدَّاذُ بْنُ مَعْقِل رضی اللہ عنہما کے پاس گئے۔ شداد بن معقل نے أَتَرَكَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ ان سے پوچھا: کیا نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ترکہ بھی چھوڑا؟ انہوں نے جواب دیا: کچھ نہیں شَيْءٍ قَالَ مَا تَرَكَ إِلَّا مَا بَيْنَ چھوڑا سوا اس کے جو مصحف کی اس جلد کے درمیان الدَّفَّتَيْنِ۔ قَالَ وَدَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ ہے۔ عبدالعزیز کہتے تھے اور ہم محمد بن حنیفہ کے ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَسَأَلْنَاهُ فَقَالَ مَا تَرَكَ پاس گئے اور ان سے بھی یہی پوچھا۔ انہوں نے إِلَّا مَا بَيْنَ الدَّفْتَيْنِ۔ بھی کہا: آپ نے کچھ نہیں چھوڑا سوائے اس کے جو مصحف کی اس جلد کے درمیان ہے۔