صحیح بخاری (جلد دواز دھم)

Page 581 of 670

صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 581

صحیح البخاری جلد ۱۳ ΟΛΙ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن السَّمَاءِ حَتَّى مَا يَرَاهَا فَلَمَّا أَصْبَحَ چپ ہو گئے اور گھوڑا بھی ٹھہر گیا۔) وہ نماز سے حَدَّثَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فارغ ہو گئے اور ان کا بیٹا بھی گھوڑے کے قریب فَقَالَ لَهُ اقْرَأْ يَا ابْنَ حُضَيْرِ اقْرَأْ يَا تھا۔وہ ڈرے کہ کہیں وہ اس کو صدمہ نہ پہنچائے۔ابْنَ حُضَيْرٍ قَالَ فَأَشْفَقْتُ يَا رَسُوْلَ جب انہوں نے اس کو اپنے پاس گھسیٹ لیا تو انہوں نے آسمان کی طرف اپنا سر اٹھایا۔یہ حالت تھی اللَّهِ أَنْ تَطَأَ يَحْيَى وَكَانَ مِنْهَا قَرِيْبًا کہ وہ ( آسمان کو) بالکل نہ دیکھتے تھے۔جب صبح فَرَفَعْتُ رَأْسِي فَانْصَرَفْتُ إِلَيْهِ ہوئی تو انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے واقعہ فَرَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى السَّمَاءِ فَإِذَا مِثْلُ بیان کیا۔آپ نے ان سے فرمایا: ابن حضیر ! اسی الظُّلَّةِ فِيْهَا أَمْثَالُ الْمَصَابِيحِ طرح پڑھتے رہو۔ابن حضیر اسی طرح پڑھتے فَخَرَجْتُ حَتَّى لَا أَرَاهَا قَالَ وَتَدْرِي رہو۔(حضرت اُسید نے) کہا: یا رسول اللہ! میں مَا ذَاكَ قَالَ لَا قَالَ تِلْكَ الْمَلَائِكَةُ دُریا تھا کہ کہیں وہ یحییٰ کو نہ کچل ڈالے اور وہ اس دَنَتْ لِصَوْتِكَ وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَصْبَحَتْ کے قریب ہی تھا۔میں نے اپنا سر اٹھایا اور یحی کی يَنْظُرُ النَّاسُ إِلَيْهَا لَا تَتَوَارَى مِنْهُمْ طرف مڑ کر گیا۔پھر میں نے اپنا سر آسمان کی طرف قَالَ ابْنُ الْهَادِ وَحَدَّثَنِي هَذَا اٹھایا۔کیا دیکھتا ہوں کہ جیسے سائبان ہے جس میں الْحَدِيثَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خَبَّابٍ عَنْ أَبِي دیے سے ہیں۔پھر میں باہر گیا تو (حالت یہ تھی کہ) سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنْ أُسَيْدِ بْن ان کو نہیں دیکھتا تھا۔آپ نے فرمایا: اور تم جانتے ہو کہ یہ کیا تھا؟ انہوں نے کہا: نہیں۔آپ نے فرمایا: یہ ملائکہ تھے جو تمہاری آواز سن کر نزدیک آگئے تھے اور تم پڑھتے رہتے تو صبح کو لوگ بھی ان کو دیکھتے، ان سے چھپتے نہیں۔ابن ہاد نے کہا: اور مجھے یہ حدیث عبد اللہ بن حباب نے بھی حضرت ابوسعید خدری سے، حضرت ابوسعید نے حضرت أسيد بن حضیر سے روایت کرتے ہوئے بتائی۔حُضَيْرٍ۔