صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 583
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۸۳ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن تشريح : لَمْ يَتْرُكِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ الدَّفَتَيْنِ : بی صلی اللہ علیہ وسلم نے سوائے اس کے جو مصحف کی اس جلد میں ہے اور کچھ نہیں چھوڑا۔ اس پر بعض لوگوں نے یہ سوال اُٹھایا ہے کہ کیا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے علاوہ اپنے پیچھے کچھ نہیں چھوڑا؟ شار حسین نے اس سوال کا یہ جواب دیا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کریم مکمل صورت میں اپنے پیچھے چھوڑا۔ نیز آپ کی احادیث جو کئی مختلف صورتوں میں موجود تھیں۔ مثلاً حضرت علیؓ کے متعلق ایک روایت بخاری میں ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کے پاس کیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کی کتاب ہے اور جو کچھ اس صحیفہ میں لکھا ہوا ہے۔ (بخاری، كتاب الجهاد والسير، باب فكاك الأسير ، روایت نمبر ۳۰۴۷) یہ بھی کہا گیا کہ حضرت علی کے پاس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی صورت میں ایک صحیفہ موجود تھا تو پھر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف قرآن چھوڑا۔ مزید یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ وہ احادیث جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں لکھی گئیں اور بعض صحابہ کے پاس موجود تھیں جیسے حضرت عبد اللہ بن عمرو، نیز وہ معاہدات اور خطوط جو آپ نے مختلف بادشاہوں کو لکھے سب تحریری صورت میں موجود تھے۔ بخاری کی روایات میں یہ بھی ذکر ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد ایک خچر ، ایک ڈھال اور فدک کی زمین چھوڑی جو بصورت صدقہ تھی۔ جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد احادیث، احکام نے اپنے بعد احادیث، احکام، معاہدات، خطوط اور زمین وغیرہ کی صورت میں جو چھوڑا، اس کے ہوتے ہوئے یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ لَمْ يَتْرُكِ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مَا بَيْنَ الدَّفَتَيْنِ شارحین لفظی بحث میں پڑ کر اس مضمون کے جمال اور شان کو بالکل نظر انداز کر گئے ہیں۔ دراصل اس حدیث میں اس امر کی وضاحت ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وصال سے پہلے فرمایا: إنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ كِتَابَ اللهِ هُوَ حَبْلُ اللَّهِ مَنِ اتَّبَعَهُ كَانَ عَلَى الْهُدَى وَمَنْ تَرَكَهُ كَانَ عَلَى الضَّلَالَةِ ! میں تم میں اللہ کی کتاب چھوڑ رہا ہوں جو حبل اللہ ہے جس نے اس کی پیروی کی وہ ہدایت : پر ہے اور جس نے اس کو چھوڑا وہ گمراہی پر ہے۔ اور یہی بات حضرت عمرؓ نے آپ کی وفات سے پہلے کہی تھی کہ حَسْبُنَا كِتَابُ اللہ ہمارے لیے اللہ کی کتاب کافی ہے۔ جس پر آپ نے اپنی خاموشی سے صاد فرمایا۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد قیامت تک آنے والے لوگوں کے لیے جو چھوڑا وہ اللہ کی کامل کتاب قرآن کریم ہے۔ باقی جتنی باتیں ہیں وہ اس کے اندر شامل ہیں۔ چاہے وہ آپ کی احادیث ہوں، دیت یا قیدیوں کے متعلق احکام پر مشتمل صحیفہ ہو، یا صدقہ و خیرات کے لیے چھوڑا گیا مال۔ وہ سب قرآن کریم کی کامل تعلیم کے اندر موجود ہے۔ اس لیے اصل چیز جو آپ نے چھوڑی وہ لاریب قرآن کریم ہے جس سے باہر دین اسلام کا کوئی امر نہیں ہے۔ دَخَلْنَا عَلَى مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ فَسَأَلْنَاهُ : هم محمد بن حنیفہ کے پاس گئے اور ان سے بھی یہی (مصنف ابن ابي شيبة، كتاب فضائل القرآن، باب في الوصية بالقرآن وقراءته)