صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 37
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۳۷ ٤٣ سُورَةُ حم الزُّخْرُفِ ۶۵ - کتاب التفسير / حم الزخرف وَقَالَ مُجَاهِدٌ عَلَى اُمَّةٍ (الزخرف: (۲۳) مجاہد نے کہا: على امة کے معنی ہیں ایک امام پر۔عَلَى إِمَامٍ وَقِيلِهِ يُرَبِّ (الزخرف: ۸۹) وَقِيلِهِ يُرَبِّ کی وضاحت یہ (آیت) ہے کہ کیا تَفْسِيرُهُ أَيَحْسِبُونَ أَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُم وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ان کی راز کی بات اور اُن کی سرگوشیاں نہیں سنتے؟ اور نہ ہی اُن کی باتیں۔وَنَجُوهُمُ (الزخرف: ۸۱) وَلَا نَسْمَعُ قِيلَهُمْ۔وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَلَوْلا أَنْ حضرت ابن عباس نے کہا: وَ لَوْ لَا أَن يَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً سے مراد یہ ہے کہ اگر یہ تَكُونَ النَّاسُ أُمَّةً وَاحِدَةً (الزخرف: ٣٤) بات نہ ہوتی کہ تمام لوگ کافر ہو جائیں گے تو میں لَوْلَا أَنْ جَعَلَ النَّاسَ كُلَّهُمْ كُفَّارًا کافروں کے گھروں کی چھت بھی چاندی کی بناتا لَجَعَلْتُ لِبُيُوتِ الْكُفَّارِ سَقْفًا مِنْ فِضَّةٍ اور مَعَارِج یعنی سیڑھیاں بھی چاندی کی بناتا اور وَمَعَارِجَ مِنْ فِضَّةٍ - وَهِيَ دَرَجْ وَسُرُرَ تخت بھی چاندی کے بناتا۔مُقرنین کے معنی فِضَّةٍ۔مُقْرِنِينَ (الزخرف: ١٤) مُطِيقِينَ۔طاقت رکھنے والے۔اسفُونَا: انہوں نے ہم کو أسَفُونَ (الزخرف: ٥٦) أَسْخَطُونَا يَعْشُ ناراض کر دیا۔یعش یعنی وہ اندھا ہو جائے۔اور (الزخرف: ٣٧) يَعْمَى۔وَقَالَ مُجَاهِدٌ مجاہد نے کہا: افَتَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ سے یہ مراد افَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذكر (الزخرف: ٦) أَيْ ہے کہ تم قرآن کو جھٹلاتے ہو اور پھر تمہیں اس تُكَذِبُونَ بِالْقُرْآنِ ثُمَّ لَا تُعَاقَبُونَ پر سزا نہیں دی جاتی۔وَمَضَى مَثَلُ الْأَوَّلِينَ یعنی عَلَيْهِ وَمَضَى مَثَلُ الْأَوَّلِينَ (الزخرف: ۹) پہلوں کا نمونہ گزر چکا۔(وَمَا كُنَّا لَهُ) مُقْرِنِينَ: ہم ان کو قابو میں رکھنے کے نہیں۔یعنی اُونٹوں، سُنَّةُ الْأَوَّلِينَ۔مُقْرِنِينَ (الزخرف: ١٤) گھوڑوں، نچروں اور گدھوں کو۔يُنَشَّوا فِي الْحِلْيَةِ يَعْنِي الْإِبِلَ وَالْخَيْلَ وَالْبِغَالَ وَالْحَمِيرَ۔سے مراد لڑکیاں ہیں جن کو تم نے رحمن کی بیٹیاں يُنَشَّؤُا فِي الْحِلْيَةِ (الزخرف: ١٩) الْجَوَارِ بنایا۔تم کیسے فیصلے کرتے ہو۔لَوْ شَاءَ الرَّحْنُ مَا جَعَلْتُمُوهُنَّ لِلرَّحْمَنِ وَلَدًا فَكَيْفَ عَبَدلَهُمْ میں ھم سے مراد بت ہیں۔اللہ تعالیٰ تَحْكُمُوْنَ۔لَوْ شَاءَ الرَّحْمَنُ مَا عَبَدُ لَهُم فرماتا ہے : مَا لَهُمْ بِذلِكَ مِنْ عِلْمٍ یعنی ان بتوں (الزخرف: ٢١) يَعْنُونَ الْأَوْثَانَ يَقُولُ کو اس کی خبر نہیں۔فی عقبہ کے معنی ہیں اس