صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 575
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۷۵ ۶۶- کتاب فضائل القرآن ۱۴۔سورة المحضر : کیونکہ جب یہ پڑھی جائے تو فرشتے اس کو سننے کیلئے حاضر ہوتے ہیں۔۱۵- سورة البراءة: یعنی آگ سے یا شرک سے محفوظ رکھنے والی۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص کو یہ سورۃ پڑھتے سنا تو آپ نے فرمایا: آئما هَذَا فَقَدْ بَر مِنَ الغيركِ کہ یہ شخص تو شرک سے پاک ہو گیا۔پھر آپ نے فرمایا جس شخص نے سو مرتبہ اس سورۃ کو نماز میں یا اس کے علاوہ پڑھا تو وہ آگ سے محفوظ ہو گیا۔١٦- سورة المذكرة: کیونکہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو یاد دلاتی ہے۔۱۷۔سورة النور: کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: إِنَّ لِكُلِّ شَيْئَ نُورًا وَنُورُ الْقُرْآنِ قُلْ هُوَ اللهُ اَحَد کہ ہر چیز کا ایک نور ہوتا ہے۔اور قرآن کا نور قُلْ هُوَ اللهُ أحد ہے۔ا۔سورۃ الامان: کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ توحید کو ماننے والا قلعہ میں داخل ہو جاتا ہے۔اور اس سورۃ میں توحید کا ذکر ہے۔پس یہ عذاب سے امن میں رکھنے والی ہے۔١٩- سورة المنفرة: یعنی شیطان کو بھگانے والی۔“ ( تفسیر کبیر ، سورة الاخلاص، جلد دہم صفحہ ۵۱۶ تا ۵۱۸) الله الواحد الصَّمَدُ تُلْتُ الْقُرْآنِ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورۃ کو ثلث قرآن قرار دیا ہے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اس سورۃ کے ثلث قرآن ہونے سے یہ مراد نہیں کہ یہ سورۃ قرآن کریم کے حجم کا تیسرا حصہ ہے بلکہ صرف یہ مراد ہے کہ اس کا مضمون خاص اہمیت رکھتا ہے۔قرآن کریم اور احادیث کو پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آخری زمانہ میں دو بڑے فتنے پیدا ہونے والے تھے۔ایک دجالی فتنہ اور دوسرا یا جوج و ماجوج کا فتنہ۔اور ان دونوں فتنوں نے یکے بعد دیگرے اسلام کے ساتھ ٹکر لینی تھی۔ایک فتنہ خدائے واحد کی بجائے تین خداؤں کا عقیدہ لیے ہوئے ہے یعنی خدا باپ، خدا بیٹا، خدا روح القدس۔اور دوسرا فتنہ دہریت کا ہے یعنی وہ سرے سے خدا کا منکر ہے۔قرآن کریم نے ان ہر دو فتنوں کے عقائد کی تردید کی ہے اور صحیح عقائد کو بیان فرمایا ہے۔در حقیقت قرآن کریم کا کام توحید کو ثابت کرنا اور غلط عقائد کو مٹانا ہے۔پس جب اس سورۃ نے نہایت جامع مانع الفاظ کے ساتھ مختصر طور پر وہ مضمون ادا کر دیا