صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 574
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۷۴ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن ٩- سورة المُقَشْقِشَه: مقشقشہ کے معنے ہیں بری کرنے والی۔ جب کوئی بیمار شفا پاتا ہے تو اہل عرب کہتے ہیں تَقَشَقَشَ الْمَرِيضُ عَمَّا بِه یعنی بیمار نے اپنی اس بیماری سے شفا پائی جس میں مبتلا تھا۔ چونکہ یہ سورۃ شرک اور نفاق سے انسان کو بری کر کے خدا تعالیٰ کا خالص بندہ بنا دیتی ہے۔ اس واسطے اس سورۃ کا نام مُقشقشہ رکھا گیا ہے۔ ا سورة المعوذة: کیونکہ احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علی م صلی اللہ علیہ وسلم حضرت عثمان بن مظعون کے پاس تشریف لے گئے اور قُلْ هُوَ الله احد اور سورۃ الفلق اور سورۃ الناس پڑھ کر ان پر پھونکا۔ اور ان کو یہ ہدایت کی کہ ان سورتوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی پناہ حاصل کیا کریں۔ 11- سورة الصمد : کیونکہ اس میں اللہ تعالیٰ کی صفت صمد کا ذکر آتا ہے۔ جس میں اس بات کو بیان کیا گیا ہے کہ کائنات کا ہر ذرہ اس کا محتاج ہے۔ ١٢- سورة الاساس: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ اُسسَتِ السَّمواتُ السَّبْعُ وَالْأَرْضُونَ السَّبْعُ عَلَى قُلْ هُوَ اللهُ اَحَد یعنی ساتوں آسمان اور ساتوں زمینوں کا قیام قُلْ هُوَ الله احد کی وجہ سے ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تثلیث کا عقیدہ آسمانوں اور زمین کی بربادی کا موجب ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تَكَادُ السَّواتُ يَتَفَطَّرْنَ مِنْهُ وَتَنْشَقُ الْأَرْضُ وَ تَخِرُّ الْجِبَالُ۔ (مریم: ۹۱) قریب ہے کہ آسمان اس گندے عقیدہ کی وجہ قیدہ کی وجہ سے پھٹ جائیں اور زمین ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے اور پہاڑ گر کر ریزہ ریزہ ہو جائیں۔ اور یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کو كَانَ فِيهِمَا الهَةٌ إِلَّا اللهُ لَفَسَدَنَا ( الانبیاء:۲۳) که اگر زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور بھی معبود ہوتا تو زمین و آسمان کا نظام درہم برہم ہو جاتا گویا توحید کا عقیدہ اس دنیا کی آبادی کی بنیاد ہے۔ ١٣- سورة المانعة: کیونکہ یہ عذاب قبر سے بچاتی ہے۔ حضرت ابن عباس روایت کرتے ہیں کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج ہو ا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو کہا: أَعْطَيْتُكَ سُورَةً الْإِخْلَاصِ وَهِيَ مِنْ ذَخَائِرِ كُنُوزِ عَرْشِي وَهِيَ الْمَانِعَةُ تَمْنَعُ عَذَابَ الْقَبْرِ وَنَفَحَاتِ الإِيرَانِ کہ میں نے تمہیں سورۃ الاخلاص دی ہے اور یہ میرے عرش کے خزانوں کے ذخائر میں سے ایک ہے۔ اور یہ عذاب قبر اور آگ کے شعلوں سے بچانے والی ہے۔ کیونکہ جو سچی توحید پر قائم ہو جائے اس کو آگ چھو نہیں سکتی۔