صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 576
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۷۶ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن جس سے غلط عقائد کا ابطال ہوتا ہے۔اور توحید کی حقیقت کو بیان کر دیا تو یہ سورۃ ثلث قرآن کیا بلکہ سارے قرآن کے برابر ہو گئی۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس سورۃ کو ثلث قرآن قرار دینا مبالغہ نہیں بلکہ اس کے مضمون کی اہمیت کے پیش نظر ہے۔چنانچہ اسی اہمیت کے پیش نظر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اعظم السور کے نام سے بھی یاد کیا ہے۔“ ( تفسیر کبیر، تفسیر سورۃ الاخلاص، جلد دہم صفحه ۵۱۹) حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اس اقل عبارت کو جو بقدر ایک سطر بھی نہیں دیکھنا چاہئے کہ کس لطافت اور عمدگی سے ہر ایک قسم کی شراکت سے وجود حضرت باری کا منزہ ہونا بیان فرمایا ہے۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ شرکت ازروئے حصر عقلی چار قسم پر ہے۔کبھی شرکت عدد میں ہوتی ہے اور کبھی مرتبہ میں، اور کبھی نسب میں اور کبھی فعل اور تاثیر میں۔سو اس سورۃ میں ان چاروں قسموں کی شرکت سے خدا کا پاک ہونا بیان فرمایا اور کھول کر بتلا دیا کہ وہ اپنے عدد میں ایک ہے دو یا تین نہیں، اور وہ صمد ہے یعنی اپنے مرتبہ وجوب اور محتاج الیہ ہونے میں منفرد اور یگانہ ہے اور بجز اس کے تمام چیزیں ممکن الوجود اور بالک الذات ہیں جو اس کی طرف ہر دم محتاج ہیں۔اور وہ لم يلد ہے یعنی اس کا کوئی بیٹا نہیں تا بوجہ بیٹا ہونے کے اس کا شریک ٹھہر جائے۔اور وہ کم يُولد ہے یعنی اس کا کوئی باپ نہیں تا بوجہ باپ ہونے کے اس کا شریک بن جائے۔اور وہ کم يكن له كفوا ہے یعنی اس کے کاموں میں کوئی اس سے برابری کرنے والا نہیں، تا باعتبار فعل کے اس کا شریک قرار پاوے۔سو اس طور سے ظاہر فرما دیا کہ خدائے تعالیٰ چاروں قسم کی شرکت سے پاک اور منزہ ہے اور وحدہ لاشریک ہے۔“ (براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد اول حاشیه صفحه ۵۱۸)