صحیح بخاری (جلد دواز دھم) — Page 570
صحیح البخاری جلد ۱۲ ۵۷۰ ۶۶ - کتاب فضائل القرآن پر تنگ ہو گئی تھی اور تمہاری آنکھیں پتھر آگئی تھیں اور کلیجے منہ کو آتے تھے مگر آج یہی قریش تمہارے ساتھ امن و امان کا معاہدہ کر رہے ہیں۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ہم سمجھ گئے۔ہم سمجھ گئے۔جہاں تک آپ کی نظر پہنچی ہے وہاں تک ہماری نظر نہیں پہنچتی مگر اب ہم نے سمجھ لیا ہے کہ واقعی یہ معاہدہ ہمارے لیے ایک بھاری فتح ہے۔“ نیز فرمایا: (سیرت خاتم النبیین ملا اونم از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے، صفحہ ۸۶۷،۸۶۶) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اس تقریر سے پہلے حضرت عمرؓ بھی بڑے پیچ و تاب میں تھے۔چنانچہ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ حدیبیہ کی واپسی پر جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت سفر میں تھے تو اس وقت میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ کو مخاطب کر کے کچھ عرض کرنا چاہا مگر آپ خاموش رہے۔میں نے دوبارہ، سہ بارہ عرض کیا مگر آپ بدستور خاموش رہے۔مجھے آنحضرت کی اس خاموشی پر بہت غم ہوا۔اور میں اپنے نفس میں یہ کہتا ہوا کہ عمر تو تو ہلاک ہو گیا کہ تین دفعہ تو نے رسول اللہ کو مخاطب کیا مگر آپ نہیں بولے۔چنانچہ میں مسلمانوں کی جمعیت میں سے سب سے آگے نکل آیا اور اس غم میں پیچ و تاب کھانے لگا کہ کیا بات ہے؟ اور مجھے ڈر پیدا ہوا کہ کہیں میرے بارے میں کوئی قرآنی آیت نازل نہ ہو جائے۔اتنے میں کسی شخص نے میرا نام لے کر آواز دی کہ " عمر بن خطاب کو رسول اللہ نے یاد فرمایا ہے۔“ میں نے کہا: بس ہو نہ ہو میرے متعلق کوئی قرآنی آیت نازل ہوئی ہے۔چنانچہ میں گھبرایا ہوا جلدی جلدی رسول اللہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام عرض کر کے آپ کے پہلو میں آگیا۔آپ نے فرمایا ”مجھ پر اس وقت ایک ایسی سورۃ نازل ہوئی ہے جو مجھے دنیا کی تمام چیزوں سے زیادہ محبوب ہے۔" پھر آپ نے سورہ فتح کی آیات تلاوت فرمائیں۔حضرت عمر نے عرض کیا۔یارسول اللہ ! کیا یہ صلح واقعی اسلام کی فتح ہے؟ آپ نے فرمایا: ”ہاں یقینا یہ ہماری فتح ہے۔“ اس پر حضرت عمرؓ تسلی پا کر خاموش ہو گئے۔سے اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں واپس تشریف لے آئے۔“ سیرت خاتم النبیین صلی علی ام از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم۔اے صفحہ ۸۶۷ تا ۸۶۸) اه (بخاری، کتاب التفسير ، باب تفسير سورة الفتح و کتاب المغازي عن زيد بن أسلم عن ابيه) (مسلم، کتاب الْجِهَادِ وَ السّير، باب صلح الحديبية في الحديبية )